منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت میں ایک نیا موڑ آگیا ،اہم انکشاف پڑھیں

datetime 10  فروری‬‮  2015 |

راولپنڈی۔۔۔۔سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت میں ایک نیا موڑ آگیا ہے جب اس مقدمے میں سرکاری گواہ اور ایس ایس پی جعفر آباد محمد اشفاق انور نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کی حفاظت کی ذمہ داری اْن کے سیکیورٹی افسر ایس ایس پی میجر ریٹائرڈ امتیاز پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے سابق وزیر اعظم کولیاقت باغ کے باہرگاڑی سے باہر نکلنے کی اجازت دی۔
اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں اشفاق انور نے اسلام آباد کے مجسٹریٹ کو ایک بیان ریکارڈ کروایا تھا جس میں اْنھوں نے سیکورٹی کی کمی کی تمام تر ذمہ داری اْس وقت کے ڈی آئی جی راولپنڈی سعود عزیز پر عائد کی تھی۔ اس بیان کے بعد اشفاق انور خصوصی کورس کے لیے بیرون ملک روانہ ہوگئے تھے۔اْنھوں نے کہا کہ پولیس نے لیاقت باغ جلسے کے دوران بینظیر بھٹو کی حفاطت کو یقینی بنانے کے لیے اپنی طاقت سے بڑھ کر اقدامات کیے تھے جبکہ مقامی انتظامیہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان یہ تحریری معائدہ ہوا تھا کہ ستائیس دسمبر سنہ 2007 کو بینظیر بھٹو جلسہ عام سے خطاب کرنے کے بعد واپس چلی جائیں گی لیکن اس کے بعد اْنھوں نیبلٹ پروف گاڑی سے اپنا سر باہر نکالا جس کے کی وجہ سے خودکش حملہ آور کو کارروائی کرنے کا موقع مل گیا۔واضح رہے کہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے پانچ ملزمان نے تفتیش کے دوران یہ اعتراف کیا تھا کہ لیاقت باغ کے جلسے کے دوران اْنھیں کارروائی کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا اور اْنھوں نے طے کرلیا تھا کہ وہ جہلم میں بینظیر بھٹو کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کریں گے جہاں پر اْنھیں نے جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہوئی۔راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج پرویز اسماعیل جوئیہ نے اس مقدمے کی سماعت کی۔پیر کے روز اس مقدمے کی سماعت کے دوران اشفاق انور سمیت وہ چار سرکاری گواہان موجود تھے جن کی عدم پیشی پر عدالت نے اْن کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے۔اشفاق انور کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کو فیض آباد سے لیاقت باغ تک لیکر جانے اور پھر اْنھیں واپس لے جانے کی ذمہ داری اْن کی تھی تاہم اس دوران کرال چوک پر میاں نواز شریف کے جلسے پر فائرنگ کی نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد اْس وقت کے ڈی آئی جی راولپنڈی سعود عزیز نے اْنھیں جائے وقوعہ پر بھیج دیا تھا۔
اس مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری اظہر کے مطابق اب تک بینظیر بھٹو کے مقدمے میں 39 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جاچکے ہیں جبکہ پانچ مذید گواہان پیش کیے جائیں گے جس کے بعد اس مقدمے کے تفتیشی افسران کے بیان قلمبند ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…