اتوار‬‮ ، 03 مئی‬‮‬‮ 2026 

اگر ملک ایک ماہ تک وزیراعظم کے بغیر چل سکتا ہے تو ایسے وزیراعظم کی کیا ضرورت ہے ٗبلاول بھٹو زر داری

datetime 21  جون‬‮  2016 |

بھمبر(این این آئی)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر ملک ایک ماہ تک وزیراعظم کے بغیر چل سکتا ہے تو ایسے وزیراعظم کی کیا ضرورت ہے ٗ تخت شریف کا انداز حکمرانی بادشاہت والا ہے۔آزاد کشمیر، بھمبر میں پیپلزپارٹی کے جلسے عام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے ملک وزیراعظم کے بغیر چل رہا ہے اگر ملک ایسے ہی چل سکتا ہے تو وزیراعظم کی ضرورت ہی کیا ہے ٗ اس ملک کو بے نظیر وزیراعظم کی ضرورت ہے جو دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکے کہ ہم پر امن پاکستان چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب نے چارٹر آف ڈیموکریسی کو بھلادیا اگر میثاق جمہوریت پر عمل کیا جاتا تو آج ملک کے حالات ایسے نہ ہوتے جب کہ تخت شریف نہیں چاہتا کہ ملک میں جمہوری ادارے مضبوط ہوں اور حکومت ہر ادارے میں جوڑ توڑ کررہی ہے، کہنے کو تو یہ منتخب اور جمہوری حکومت ہے لیکن انداز حکمرانی تخت شریف کی بادشاہت والا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تاریخ میں بہت کم ایسی شخصیت ہوتی ہیں جو بے نظیر ہوں جب کہ شہید بے نظیر بھٹو آمریت کے خلاف جدوجہد کی علامت بنیں، انہوں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے سیاست صرف سیاست نہیں ہے بلکہ اس کو عبادت کا درجہ دیتا ہوں جب کہ میری سیاست غریبوں، مزدوروں، کسانوں، نوجوانوں، مظلوموں اور برابری کے لیے ہے میں نظریاتی سیاست کررہا ہوں، آج میڈیا میں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی ختم ہوگئی ہے اور آخری سانسیں لے رہی ہے لیکن انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ تو صرف ٹریلر ہے میں بہت جلد پنجاب اور خیبرپختونخوا کا دورہ کروں گا اور یہ میرا ایمان ہے کہ پاکستان کے عوام شہید بھٹو کو بھول سکتے ہیں اور نہ شہید بینظیر کو۔چیرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ ہم بے نظیر پاکستان بنانا چاہتے ہیں جہاں تمام پاکستانیوں کو ان کا حق دیا جائے گا، اقلتیوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں گے، عوام کو روزگار دیا جائے گا، عدالتیں انصاف کریں گی، پولیس لوگوں کا تحفظ کرے گی، افسر شاہی اور سیاستدان عوام کے خادم ہوں گے جبکہ بے نظیر معیشت میں عوام کا پیسا میٹرو جیسے نمائشی منصوبوں پر خرچ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ ان انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ نہ دیں کیوں کہ یہ ایک ریفرنڈم ہے، اور اگر (ن) لیگ کامیاب ہوجاتی ہے تو ایسا لگے گا کہ یہاں کے عوام نے نوازشریف کی کشمیر دشمن پالیسی کی حمایت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)


ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…