منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

خبردار۔۔۔سمارٹ ٹی وی سیٹ آپکے راز افشا کر سکتا ہے

datetime 10  فروری‬‮  2015 |

سیول۔۔۔۔سیمسنگ نے گاہکوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سمارٹ ٹی وی سیٹ کے سامنے ذاتی معاملات پر بحث کر نے سے گریز کریں۔یہ انتباہ ان ناظرین کے لیے ہے جو اپنے سیمسنگ ٹی وی کو آواز کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ ایسے ٹی وی سیٹ اپنے سامنے ہونے والی تمام گفتگو کو سنتے ہیں اور وہ اس کی تفصیلات سیمسنگ یا دوسری کمپنیوں کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔نجی معلومات کی حفاظتی مہم چلانے والے کارکنوں نے اس ٹیکنالوجی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذریعے شہریوں کی جاسوسی کی جاسکتی ہے۔یہ انتباہ ’ ڈیلی بیسٹ‘ نامی ایک آن لائن نیوز میگزین کے جانب سے سیمسنگ کے سمارٹ ٹی وی سیٹ کی رازداری کی پالیسی کے ایک حصے کا اقتباس شائع کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔اگر ایک صارف آواز کی شناخت کرنے والے فیچر کو رضامندی سے استعمال کرتا ہے تو پھر مطلوبہ مواد کو ڈھونڈنے کے لیے آواز کا ڈیٹا ایک تیسری پارٹی کو بھیجا جاتا ہے جو اس مواد کو حاصل کر کے واپس بھیجتی ہے۔
سیمسنگ
پالیسی میں وضاحت کی گئی ہے کہ ٹی وی سیٹ کمرے میں موجود لوگوں کی باتیں سن اور ریکارڈ کر سکتے ہیں اور اگر آپ کی گفتگوں میں ذاتی معلومات کا تبادلہ کیاگیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ یہ تیسری پارٹی کو بھیجی جانے والی معلومات میں شامل ہوں۔لوگوں کے ڈیجیٹل حقوق کے بارے میں شعور اجاگر کرنے والی تنظیم ’الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن‘ کی وکیل ’ کورنی مئکشیری‘ کا کہنا ہے کہ ’ اگر میں سیمسینگ کی گاہک ہوتی تو میں یقیناً یہ جاننا چاہتی کہ یہ تیسری پارٹی کون ہے اور میرے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے گئے دوسری جانب سیمسنگ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ کمپنی کے سمارٹ ٹی وی پر وائیس ایکٹیویشن کیسے کام کرتی ہے۔’اگر ایک صارف آواز کی شناخت کرنے والے فیچر کو رضامندی سے استعمال کرتا ہے تو پھر مطلوبہ مواد کو ڈھونڈنے کے لیے آواز کا ڈیٹاایک تیسری پارٹی کو بھیجا جاتا ہے جو اس مواد کو حاصل کر کے واپس بھیجتی ہے۔‘
سیمسنگ نے تیسری پارٹی کا نام نہیں بتایا۔
کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ آواز کی شناخت کرنے والے فیچر صرف صارف ہی آن کر سکتے ہیں اور نہ تو وہ آواز کا ڈیٹا اپنے پاس رکھتی ہے اور نہ ہی اسے کسی اور کو بیچتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…