اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ لازمی قرار دیدی

datetime 20  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ لازمی قرار دیتے ہوئے واضح موقف اپنایا ہے کہ طور خم بارڈر پر چیک پوسٹ اور کراسنگ پوائنٹ پاکستانی حدود کے اندر ہیں‘ پاک افغان سرحد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے‘ سرحدی کشیدگی کسی ملک کے مفاد میں نہیں،بارڈر مینجمنٹ میکنزم سے اسمگلنگ کی روک تھام میں مدد ملے گی،‘ افغانستان کو بارڈر مینجمنٹ کی بہتری میں پاکستان سے تعاون کرنا ہوگا۔ پیر کو طورخم بارڈر پر حالیہ کشیدگی کے حوالے سے افغان ڈپٹی وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی کی سربراہی میں افغانستان کا چھ رکنی وفد اسلام آباد پہنچا۔اس موقع پر پاک افغان بارڈر مینجمنٹ سے متعلق دونوں ممالک کے خارجہ حکام کا اجلاس ہوا
جس میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کی جبکہ افغان وفد کی قیادت حکمت خلیل کرزئی نے کی۔ ملاقات میں طورخم سرحد پر بارڈر مینجمنٹ اور حالیہ سرحدی کشیدگی پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ حکمت خلیل کرزئی کا کہنا تھا کہ دوبارہ پاکستان آکر خوشی محسوس کررہا ہوں، دونوں ممالک کو باہمی مشاورت اور رابطے سے میکنزم تیار کرناہوگا ، ۔سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کابل میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے سانحہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور دکھ کا اظہار کیا اور افغان حکومت و عوام سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحدپرامیگریشن میکنزم غیرریاستی عناصرکی سرکوبی کیلئے لازمی ہے،صرف طور خم ہی نہیں باقی کراسنگ پوائنٹس پر بھی گیٹس بننے چاہیں،
بارڈر مینجمنٹ سے دونوں ممالک یکساں فائدہ ہو گے ،افغان وفد نے بھی بارڈرمینجمنٹ میکنزم کی اہمیت سے اتفاق کیا ،بارڈر مینجمنٹ میکنزم سے اسمگلنگ کی روک تھام میں مدد ملے گی، مذاکرات میں پاکستان نے واضح موقف اختیار کیا کہ طور خم بارڈر پر چیک پوسٹ اور کراسنگ پوائنٹ پاکستانی حدود کے اندر ہیں‘ پاک افغان سرحد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے‘ سرحدی کشیدگی کسی ملک کے مفاد میں نہیں‘ افغانستان کو بارڈر مینجمنٹ کی بہتری میں پاکستان سے تعاون کرنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…