جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

افغانستان کا بارڈر مینجمنٹ کیخلاف ردعمل سمجھ سے بالاتر ہے ٗطارق فاطمی

datetime 18  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور سید طارق فاطمی نے کہا ہے کہ پاکستان سرحدی انتظام کو نظر انداز نہیں کر سکتا ٗافغانستان کا بارڈر مینجمنٹ کے خلاف ردعمل سمجھ سے بالاتر ہے ایک انٹرویو میں سید طارق فاطمی نے کہا کہ دو سالہ آپریشن ضرب عضب اور موثر سرحدی انتظام کے ذریعے سرحدی علاقوں میں مثبت نتائج حاصل کئے گئے ہیں، پاکستان افغان بارڈر کے تمام اہم کراسنگ پوائنٹس پر گیٹ تعمیر کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے، افغانستان کا بارڈر مینجمنٹ کے خلاف ردعمل سمجھ سے بالاتر ہے اور یہ ایک بدقسمتی ہے کیونکہ ہم نے بارڈر مینجمنٹ ایشو پر افغانستان کے ساتھ اعلی سطحی مشاورت اور گفتگو کی تھی، پاکستان تمام کراسنگ پوائنٹس اور داخلی راستوں پر گیٹس تعمیر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر گیٹس کی تعمیر کے حوالے سے پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کر رہا کیونکہ دنیا کے کئی ممالک نے کراسنگ پوائنٹس پر گیٹس تعمیر کئے اور بارڈر مینجمنٹ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے،
جن میں امریکہ اور کینیڈا بھی شامل ہیں، وہ دوستانہ ماحول میں سرحدی امور کو چلا رہے ہیں۔ سید طارق فاطمی نے کہا کہ پاک افغان سرحدی امور پر اختلافات کو طے کرنے کیلئے کسی تیسری قوت کی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے، ہم اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے خود حل کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں طارق فاطمی نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بارڈر مینجمنٹ ضروری اور ناگزیر ہے، بارڈر مینجمنٹ کے بارے میں افغانستان کے خدشات دور کرنے کیلئے تیار ہیں، افغان عوام ہمارے بھائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہوں، افغان مہاجرین باعزت انداز میں واپس چلے جائیں تاکہ پاکستان میں امن و امان کے مسائل بھی کم ہو جائیں، افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ توقع ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 30 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، آدھے سے زیادہ مہاجرین کی رجسٹریشن بھی نہیں ہوئی، اب ہمارے لئے یہ ممکن نہیں کہ افغان مہاجرین کی میزبانی جاری رکھ سکیں، اگر افغانستان بائیو میٹرک کا نظام نصب کرے تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔ امریکی ڈرون حملے سے افغان امن عمل متاثر ہوا، 18 مئی کو امن عمل کی حمایت کی گئی اور 21 مئی کو ڈرون حملہ ہوا، جس سے امن عمل پر سوالیہ نشان لگ گئے۔



کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…