پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان ،افغانستان سرحدی چوکیوں کامعاملہ،اے این پی نے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 17  جون‬‮  2016 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے کہا ہے کہ ماضی میں بھی افغانستان اور پاکستان کو مخصوص مفاداتی جنگ میں دھکیل کر دونوں ممالک کے لاکھوں خاندانوں کو ہجرت پر مجبور کیا گیا اور دونوں ممالک کی سرزمین دہشت گردوں کی آماجگاہ بنائی گئی۔دوبارہ پاکستان اور افغانستان کی افواج کو آمنے سامنے لا کر ایک ایسی جنگ کیطرف دھکیلا جا رہا ہے جس کا نا قابل تلافی نقصان دونوں ممالک کے علاوہ خطے کو بھی ہو گا۔سیکرٹریٹ سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق زاہد خان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر شدید تشویش کا ظہار کرتے ہوئے افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی اور پاکستان میں افغانستان کے سفیر کے بیانات کی گہرائی کو سمجھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ نقطہ غور طلب ہے کہ پاکستان خطے میں مکمل تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ایران ، بھارت اور افغانستان کے درمیان دفاعی اور تجارتی معا ہدات ہو رہے ہیں ا ور پاکستان کو امریکہ بھی خدا حافظ کہنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔زاہد خان نے کہا کہ مضبوط اور خوشحال افغانستان پاکستان اور خطے کیلئے انتہائی اہم ہے ۔دونوں ممالک کی مضبوطی خطے میں امن کے ساتھ منسلک ہے۔وزیراعظم پاکستان فوری طور پر صدر افغانستان کے ساتھ رابطوں کے ذریعے غلط فہمیوں کے ازالے کے ٹھوس اقدامات اٹھائیں ۔پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دینی چاہئے اور تنازعات کے حل کیلئے افہام و تفہیم کا رستہ تلاش کرنا چاہے۔زاہد خان نے کہا کہ تناؤ اور کشیدگی کو بر وقت نہ روکا گیا تو بڑی تباہی روکنا مشکل ہو گا جس کا فائدہ صرف اور صرف دہشت گرد اٹھائینگے۔افغانستان کے تجارتی راستے روکنے اور تجارت بند کرنے کی دھمکیاں کسی بھی طرح پاکستان اور پاکستانی قوم کے مفاد میں نہیں۔سیاسی قیادت افغانستان کی آذادی اور خودمختاری کے بارے میں بیانات دینے سے گریز کرے۔زاہد خان نے تجویز کیا کہ سرحدی چوکیوں ،داخلی و خارجی راستوں کے معاملات کے حل کیلئے دونوں ممالک مشترکہ میکنزم قائم کریں۔پرائی جنگ میں پہلے ہی پختونوں کا بہت خون بہ چکا اب دونوں اطراف کے پختونوں کے معاشی قتل کو روکنے کیلئے سیاسی وقومی قیادتیں ہوش کے ناخن لیں اور خطے کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے اعتماد کی فضا بحال کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…