پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

مرے ہوئے شوہر نے بیوی کوگلدستہ بھیج ڈالا

datetime 19  فروری‬‮  2015 |

کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ محبت کبھی مر نہیں سکتی اور اسی لیے محبت کرنے والے مرنے کے بعد جسمانی طور پر تو جدا ہوجاتے ہیں لیکن ان کی یادیں پھولوں کی خوشبو کی طرح ذہن میں ترو تازہ رہتی ہیں اسی طرح کی ایک واقعہ امریکا میں پیش آیا جہاں بیوی کو شوہر کے مرنے کے بعد اس کی طرف سے ویلنٹائن ڈے پر گلدستہ موسول ہوا جسے دیکھ کر حیرانگی کی تصویر بن گئی۔

یوں تو ویلنٹائن ڈے پر بہت سی خواتین کو اپنے ایسے چاہنے والوں کی طرف محبت کے پیغامات اور پھولوں کے تحائف ملتے ہیں جس کی ان کو توقع بھی نہ ہوئی لیکن امریکا میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جہاں کیسپر کی رہائشی خاتون شیلے گولےکو اس کےمردہ شوہر جم گولتے کی جانب سے بھیجا گیا محبت بھرا گلدستہ موصول ہوا جسے دیکھ کر پہلے تو وہ ایک لمحے کے لیے سکتے میں آگئی لیکن پھر اسے یہ لگا کہ کہیں یہ تحفہ اس کے بچوں کی طرف سے نہ بھیجا گیا ہو مگر پھول فروش سے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ گلدستہ اس کے شوہر کی ہی جانب سے بھیجا گیا ہے اور اسے آنے والے دنوں میں اس طرح کے اور تحائف ملیں گے۔

دوسری جانب خاتون کے مطابق اس کا شوہر 8 ماہ قبل دماغ کے کینسر کی وجہ سے انتقال کر چکا ہے لیکن وہ دونوں ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے تھے اور اس کی جدائی اس کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا جب کہ اس کےشوہر نے اسے اپنی محبت کی یاد دلانے کے لیے یہ منصوبہ بنایا کہ یاد گار مواقع پر اس کی جانب سے تازہ پھولوں کا تحفہ اس کی بیوی کے لیے پہنچایا جائے اور اس کے لیے ایک پھول فروش کو ذمہ داری سونپی گئی تھی جس نے ویلنٹائن ڈے پر پہلا گلدستہ اس خاتون کو پیش کیا جس پر اس کے شوہر کی جانب سے محبت بھرا پیغام بھی تھا جب کہ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر نے یہ آئیڈیا فلم ’’ پی ایس آئی لو یو‘‘ سے لیا ہے۔

خاتون کے شوہر کی جانب سے بھیجے گئے اس گلدستے کے ساتھ یہ ویلنٹائن کی مبارکباد، خود کو مضبوط رکھنے اور اپنی ہمیشہ قائم رہنے والی محبت کا اظہار کا پیغام تھا جسے پڑھنے کے بعد خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور بے ساختہ اس کے آنسو نکل گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…