جمعرات‬‮ ، 05 مارچ‬‮ 2026 

دلہن کا بارات آنے پر دھرنا

datetime 20  فروری‬‮  2015 |

بھارت کی ریاست بہار کے ایک علاقے میں ’پكڑوا شادی‘ یعنی پکڑ کر شادی کرنے کا رواج بھی رہا ہے جس میں لڑکے کو اغوا کر اس کی زبردستی شادی کرا دی جاتی ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ ضلع بیگوسرائے کے مقدم پور گاؤں کا ہے جہاں دلہن بارات لے کر سسرال پہنچی اور گھر کے سامنے ہی دھرنے پر بیٹھ گئی۔

مقدم پور گاؤں کے سربراہ نے جوس پلا كر ان باراتیوں کا دھرنا اور بھوک ہڑتال تو ختم کرا دی لیکن معاملہ ابھی سلجھ نہیں پایا ہے۔

لڑکے والے جہاں شادی سے ہی انکار کر رہے ہیں وہیں لڑکی کی طرف والے لوگوں کا کہنا ہے کہ شادی لڑکے کی مرضی سے ہوئی تھی لیکن جہیز کا مطالبہ پورا نہ ہونے کے سبب انھیں پریشان کیا جا رہا ہے۔

بھرول گاؤں کے مہا کانت ایشور کی بیٹی پریتی کماری کی شادی گذشتہ برس اپریل میں مقدم پور کے دھیرج ٹھاکر سے ہوئی تھی۔

مہا کانت ایشور کہتے ہیں: شادی کے دوران ہی لڑکے والے جہیز کا مطالبہ کرنے لگے اور معاملہ طول پکڑ گیا۔

150219170800_150217144305_priti_s_barat

متعدد کوششوں کے باوجود بھی دھیرج اور ان کے خاندان سے بات تو نہیں ہو پائی لیکن ان کے رشتہ داروں کے مطابق یہ ’پكڑوا شادی‘ کا معاملہ ہے۔

منصور چك تھانے کے انچارج سربجيت کمار کے مطابق’ لڑکے کے بھائی نے یہ ایف آئی آر درج کروائی تھی کہ شادی کروانے کے مقصد سے دھیرج کو اغوا کر لیا گیا ہے۔‘

پولیس اہلکار سربجيت کے مطابق اغوا کی شکایت کے بعد پولیس نے دھیرج کو اسی جگہ سے برآمد کیا جہاں شادی کی گئی تھی لیکن اس وقت تک شادی ہو چکی تھی۔

اس دوران اغوا کے الزام میں میں پریتی کے والد سمیت بعض دیگر افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

150219170851_150217144305_priti_with_media_persons

اس طرح کی شادیوں میں ہر فریق خود کو صحیح ٹھہراتا ہے۔ لڑکی والے جہاں جہیز اور سماجی روایت کا حوالہ دیتے ہیں تو وہیں لڑکے اور ان کے خاندان والے اپنی آزادی کی بات کرتے ہیں۔

اب دلائل جو بھی ہوں لیکن پریتی کے پاس اب گویا سسرال میں کسی بھی طرح داخل ہونا ہی واحد حل بچا ہے۔

پریتی نے گذشتہ برس دسمبر میں اس سلسلے میں ریاستی دارالحکومت پٹنہ جا کر’ وومن کمیشن‘ میں شکایت درج کرائی تھی۔

شکایت کے بعد کمیشن کی رکن رینا کماری نے اس معاملے میں مداخلت کی۔

150219170903_150217144305_bswc_member_rina_kumari_interacing_with_villagers

رینا کماری مانتی ہیں کہ پریتی اور دھیرج کی ’پكڑوا شادی‘ ہوئی تھی لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اس میں لڑکی کی کوئی غلطی نہیں ہے اور پوری کوشش ہے کہ پریتی کو اس کا حق ملے۔

ادھرسماجی کارکن اور پٹنہ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈی جي نارائن کے مطابق اس ’قرون وسطیٰ کی روایت‘ کی جڑ میں جہیز کی رسم ہے۔

وہ کہتی ہیں ’جہیز ایسی شادیوں کا بڑا سبب ہے۔ ایسی شادیوں میں لڑکی چاروں طرف سے گھر جاتی ہے اور اس پر کئی طرح کے مظالم ہوتے ہیں لیکن جہیز جیسی برائی سے بچنے کے لیے اس طرح کا جرم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…