جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

دلہن کا بارات آنے پر دھرنا

datetime 20  فروری‬‮  2015 |

بھارت کی ریاست بہار کے ایک علاقے میں ’پكڑوا شادی‘ یعنی پکڑ کر شادی کرنے کا رواج بھی رہا ہے جس میں لڑکے کو اغوا کر اس کی زبردستی شادی کرا دی جاتی ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ ضلع بیگوسرائے کے مقدم پور گاؤں کا ہے جہاں دلہن بارات لے کر سسرال پہنچی اور گھر کے سامنے ہی دھرنے پر بیٹھ گئی۔

مقدم پور گاؤں کے سربراہ نے جوس پلا كر ان باراتیوں کا دھرنا اور بھوک ہڑتال تو ختم کرا دی لیکن معاملہ ابھی سلجھ نہیں پایا ہے۔

لڑکے والے جہاں شادی سے ہی انکار کر رہے ہیں وہیں لڑکی کی طرف والے لوگوں کا کہنا ہے کہ شادی لڑکے کی مرضی سے ہوئی تھی لیکن جہیز کا مطالبہ پورا نہ ہونے کے سبب انھیں پریشان کیا جا رہا ہے۔

بھرول گاؤں کے مہا کانت ایشور کی بیٹی پریتی کماری کی شادی گذشتہ برس اپریل میں مقدم پور کے دھیرج ٹھاکر سے ہوئی تھی۔

مہا کانت ایشور کہتے ہیں: شادی کے دوران ہی لڑکے والے جہیز کا مطالبہ کرنے لگے اور معاملہ طول پکڑ گیا۔

150219170800_150217144305_priti_s_barat

متعدد کوششوں کے باوجود بھی دھیرج اور ان کے خاندان سے بات تو نہیں ہو پائی لیکن ان کے رشتہ داروں کے مطابق یہ ’پكڑوا شادی‘ کا معاملہ ہے۔

منصور چك تھانے کے انچارج سربجيت کمار کے مطابق’ لڑکے کے بھائی نے یہ ایف آئی آر درج کروائی تھی کہ شادی کروانے کے مقصد سے دھیرج کو اغوا کر لیا گیا ہے۔‘

پولیس اہلکار سربجيت کے مطابق اغوا کی شکایت کے بعد پولیس نے دھیرج کو اسی جگہ سے برآمد کیا جہاں شادی کی گئی تھی لیکن اس وقت تک شادی ہو چکی تھی۔

اس دوران اغوا کے الزام میں میں پریتی کے والد سمیت بعض دیگر افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

150219170851_150217144305_priti_with_media_persons

اس طرح کی شادیوں میں ہر فریق خود کو صحیح ٹھہراتا ہے۔ لڑکی والے جہاں جہیز اور سماجی روایت کا حوالہ دیتے ہیں تو وہیں لڑکے اور ان کے خاندان والے اپنی آزادی کی بات کرتے ہیں۔

اب دلائل جو بھی ہوں لیکن پریتی کے پاس اب گویا سسرال میں کسی بھی طرح داخل ہونا ہی واحد حل بچا ہے۔

پریتی نے گذشتہ برس دسمبر میں اس سلسلے میں ریاستی دارالحکومت پٹنہ جا کر’ وومن کمیشن‘ میں شکایت درج کرائی تھی۔

شکایت کے بعد کمیشن کی رکن رینا کماری نے اس معاملے میں مداخلت کی۔

150219170903_150217144305_bswc_member_rina_kumari_interacing_with_villagers

رینا کماری مانتی ہیں کہ پریتی اور دھیرج کی ’پكڑوا شادی‘ ہوئی تھی لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اس میں لڑکی کی کوئی غلطی نہیں ہے اور پوری کوشش ہے کہ پریتی کو اس کا حق ملے۔

ادھرسماجی کارکن اور پٹنہ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈی جي نارائن کے مطابق اس ’قرون وسطیٰ کی روایت‘ کی جڑ میں جہیز کی رسم ہے۔

وہ کہتی ہیں ’جہیز ایسی شادیوں کا بڑا سبب ہے۔ ایسی شادیوں میں لڑکی چاروں طرف سے گھر جاتی ہے اور اس پر کئی طرح کے مظالم ہوتے ہیں لیکن جہیز جیسی برائی سے بچنے کے لیے اس طرح کا جرم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…