اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

نئے کرنسی نوٹ حاصل کرنے کیلئے اسٹیٹ بنک نے طریقہ متعارف کرادیا

datetime 7  جون‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئے کرنسی نوٹ کے لیے ایس ایم ایس سروس دوبارہ شروع کردی ، صارفین بدھ 2رمضان سے 28 رمضان تک اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔نئے کرنسی نوٹ 116شہروں میں 500کمرشل بینک برانچز کے ساتھ ساتھ آن لائن بینکنگ میں دستیاب ہوں گے، نئے نوٹ مقرر کردہ بین برانچوں میں پہنچائے جاچکے ہیں۔ایس ایم ایس سروس سے استفادہ کرنے والے سے ایک مسیج کے چارجز 2 روپے بمشول ٹیکس ہوں گے۔سروس کے تحت نے صارف کو شناختی کارڈ یا اسمارٹ کارڈ نمبر اور مطلوبہ آن لائن بینکنگ کی آئی ڈی لکھ کر شارٹ کوڈ 8877 میں مسیج کرنا ہوگا، آن لائن بینکنگ کے کوڈ کی آئی ڈی اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ sbp.org.pk پر موجود ہے۔اس کے بعد صارف کو بینک کی جانب سے کوڈ ارسال کیا جئے ہوگا، کوڈ کی محدود مدت دو دن کے لیے مقرر کی گئی ہے، صارف کو نئے کرنسی نوٹ لینے کے لیے اصل شناختی کارڈ یا اسمارٹ کارڈ، ان کی فوٹو کاپی اور 8877 سے موصول ہونے والا کوڈ بھی ساتھ لانا ہوگا۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے اعلامیہ کے مطابق گزشتہ سال عید پر ایم ایس سروس کی پسندیدگی کے بعد بینک نے رواں سال بھی یہی سروس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔سروس کے تحت ہر صارف 10 اور 20 روپے کے نوٹوں کے 2 پیکٹس حاصل کر سکے گا جبکہ اسٹاک ہونے پر کوئی بھی صارف ایک پیکٹ 50 اور 100 روپے کے نئے نوٹوں کے بھی حاصل کرسکتا ہے۔ہر صارف اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے صرف ایک ہی نمبر اورایک ہی شناختی کارڈ نمبراستعمال کرسکتا ہے۔اگر کوئی بھی صارف مختلف موبائل نمبر سے ایک ہی شناختی کارڈ یا اسمارٹ کارڈ نمبرسے مسیج بھیجتا ہے یا مختلف شناختی کارڈ نمبرز سے ایک ہی موبائل نمبر بھیجتا ہے تو ایسے صارف کی ٹرانزیکشن مکمل نہیں ہوگی البتہ صارف کے چارجز کاٹ لیے جائیں گے۔اسٹیٹ بینک نے صارفین کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن کوڈ بھی ترتیب دئیے ہیں جس میں این ڈبلیو ڈی کوڈ پنجاب کے لیے 042، سندھ اور بلوچستان کے لیے 021 اور خیبرپختونخوا ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے کوڈ دیئے گئے ہیں۔صارفین ہیلپ لائن سے مزید تفصیلات اور معلومات بھی لے سکتے ہیں، ہیلپ لائن کی سہولت صرف دفتری اوقات کے دوران مہیا کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…