جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

وزیراعظم کا عہدہ ایک منٹ کیلئے خالی نہیں رکھا جاسکتا، ا فتخار چوہدری

datetime 5  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد (آن لائن) سابق چیف جسٹس و جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ ا فتخار چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا عہدہ ایک منٹ کیلئے خالی نہیں رکھا جاسکتا اور کوئی اور وزیر حلف اٹھائے بغیر وزیراعظم نہیں بن سکتا یہ غیر آئینی ہے۔ نواز شریف کو اپنی پارٹی پر اعتماد ہونا چاہیے جو نہیں ہے وہ بیماری کے دوران کسی اور کو وزیراعظم بناسکتے تھے صدارتی نظام پر بات کرنا شجر ممنوعہ نہیں بلٹ پروف گاڑی کی منظوری اس وقت وزیراعظم نے دی تھی۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ میں نے پارٹی کو منظم کرنے کا کام جاری رکھا ہوا ہے کوئی مجبور اور پابند نہیں کہ وہ میری پارٹی میں شامل ہو انہوں نے کہا کہ میں نے جنرل پاشا سے کبھی ملاقات نہیں کی حامد میر نے اخلاقیات سے گری ہوئی بات کی ۔ جنرل تاور بلوچ ایک اچھے انسان ہیں‘ انہوں نے کہا کہ یہ ملک 20 کروڑ عوام کا ہے وزیراعظم آفس ایک منٹ کیلئے بھی خالی نہیں ہوسکتا جب اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرتی ہیں اور نئے انتخابات ہوتے ہیں اس وقت بھی نگران وزیراعظم تعینات کیا جاتا ہے کیونکہ یہ عہدہ خالی نہیں رکھا جاسکتا انہوں نے کہا کہ کابینہ کا ہیڈ وزیراعظم ہوتا ہے وزراء وزیراعظم کے ماتحت کام کرتے ہیں آرٹیکل 48 کے تحت وزیراعظم کو بہت سے موقعوں پر صدر کو ایڈوائس کرنی پڑتی ہے اور یہ ایڈوائس کوئی اور نہیں کر سکتا یہ ممکن ہی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اپنی پارٹی پر اعتماد ہونا چاہیے لیکن انہیں اعتماد نہیں ہے وہ بیمار ہیں تو کسی اور کو وزیراعظم بنا سکتے تھے انہوں نے کہاکہ موجودہ اپوزیشن سے بہت گلہ ہے انہیں وزیراعظم کی موجودگی میں بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے اور پارلیمنٹ میں ان سے سوالات کرنے چاہئیں تھے اپوزیشن کا بائیکاٹ کا فیصلہ درست نہیں تھا افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ پانامہ پیپرز اہم مسئلہ ہے جو بین الاقوامی ہے وزیراعظم اور ایک پٹواری میں فرق ہوتا ہے وزیراعظم کو عہدے سے الگ ہو کر الزامات کا سامنا کرنا چاہیے تھا انہوں نے کہا کہ لے فٹر میں جائیدادیں بہت پہلے خریدی گئیں وزیراعظم کا نام ہے بچوں کا نام 2005 ء کے بعد آیا تحفظات ہونے چاہئیں انہوں نے کہاکہ میں نے ارسلان کو اپنے بیٹے کے طور پر سپریم کورٹ نہیں بلایا تھا اسے ایک ملزم کی حیثیت سے بلایا تھا کیونکہ ایک ادارے پر حرف آیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ میری ہمدردیاں وزیراعظم کے ساتھ ہیں زویراعظم کو یہ مرض پہلے سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ سوموٹو لینا چیف جسٹس کی اپنی مرضی پر ہوتا ہے میں کسی چیف جسٹس کوکوئی ایڈوائس نہیں کرسکتا وہ اسی آئین کے تحت چیف جسٹس ہیں جس آئین کے تحت میں چیف جسٹش تھا انہوں نے کہا کہ پانامہ کے معاملے کو پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے میں اس پر پٹیشن نہیں کروں گا انہوں نے کہا کہ صدارتی نظام میں بھی پارلیمنٹ ہوگی لیکن نظام تبدیل ہوگا صدارتی نظام کی بات کرنا شجر ممنوع نہیں ہے صدارتی نظام سے بہتر نظام کی امیدیں پیدا ہوسکتی ہیں انہوں نے کہاکہ بلٹ پروف گاڑی رکھنا ٹھیک ہے یہ وزیراعظم نے خط لکھا تھا کہ میری ریٹائرمنٹ کے بعد بلٹ پروف گاڑی دی جائے کیونکہ ان کی جان کوخطرہ ہے اب یہ معاملہ عدالت میں ہے اس پر مزید بات نہیں کر سکتا۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…