جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

ایران، سعودیہ حج تنازعہ، سعودی عرب نے صاف جواب دیدیا

datetime 29  مئی‬‮  2016 |

ریاض(آن لائن)ایران کے سرکاری حج کمیشن کے ارکان کی جانب سے اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران ایرانی حجاج کرام کو رواں سال حج پر حجاز مقدس بھجوائے جانے کے معاملے پر اتفاق رائے ہونے کے باوجود ایرانی وفد نے حج پروٹوکول پر دستخط کرنے سے انکار کردیا اور پروٹوکول کی منظوری کے بغیر ہی وفد ایران واپس لوٹ آیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی حکومت نے حج پروٹوکول پر دستخط نہ کرنے کی ذمہ داری ایران پرعائد کی ہے۔ عرب خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی وزات حج وعمرہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل 5/8/1437 کو دونوں ملکوں کے درمیان حجاج کرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں ایران نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو حج پر نہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ ایران کے غیر لچک دار رویے کے باوجود خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے ایران کو حجاج کرام کے معاملے میں دوبارہ مذاکرات کہ دعوت پیش کی تھی۔چنانچہ اس دعوت پر ایرانی حج کمیشن کا ایک وفد دو روزہ دورے پر ریاض پہنچا تو اس کا سرکاری سطح پر استقبال کیا گیا۔ حج کے حوالے سے معاملات طے کرنے کے لیے آئے وفد کے ارکان کو عمرہ کرایا گیا اور انہیں سعودی عرب میں ہرممکن سہولت مہیا کی گئی۔ بعد ازاں مذاکرات کے دوران فریقین نے اتفاق کیا تھا کہ چونکہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان براہ راست سفارتی تعلقات
معطل ہیں، اس لیے حجاج کرام کے ویزوں کا معاملہ سوئٹرزلینڈ کے سفارت خانے کے ذریعے کیا جائے گا۔ نیز ایران کے اندر ہی سے حج پرآنے والے شہریوں کو الیکٹرانک ویزے جاری کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ایرانی حجاج کرام کو حجاز مقدس لانے کے لیے ریاض اور تہران کی سرکاری فضائی سروسز مساوی انداز میں خدمات مہیا کریں گی۔ ان تمام امور کے طے پانے کے باوجود ایرانی وفد پروٹوکول کی حتمی منظوری کے بغیر ہی واپس ایران چلا گیا۔ یوں ایرانی حجاج کرام کا معاملہ حل نہیں ہوسکا ہے۔قبل ازیں سعودی عرب کی وزارت حج کے انڈر سیکرٹری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان حجاج کرام کے معاملے پر تنازع ختم ہوگیا ہے اور فریقین نے ایرانی عازمین حج کے حوالے سے پروٹوکول سے اتفاق کیا ہے۔ تاہم ایرانی وفد کے واپس جانے کے بعد سعودی وزارت حج نے ایرانی عازمین حج کو روکے جانے کی ذمہ داری تہران پرعائد کی ہے اور کہا ہے کہ ایران اللہ اورعوام کے سامنے حجاج کو حجاز مقدس آنے سے روکنے کا ذمہ دار ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…