اسلام آباد (این این آئی) پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے ضوابط کار طے کرنے سے متعلق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا اہم اراکین نے اجلاس جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے ٗ آئندہ اجلاس پیر کی شام چار بجے ہوگا جبکہ اپوزیشن نے کہاہے کہ وہ اپنے 15 نکات پر قائم ہیں ٗاپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے تاہم اگر حکومت ان میں کوئی اضافہ کرنا چاہتی ہے تو اس پر بات ہو سکتی ہے۔ جمعہ کو حکومت اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل ٹی او آرز کمیٹی کا ایک مرتبہ پھر اجلاس ہوا جس میں متفقہ طورپر پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے ٹی او آرز بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیااس موقع پراپوزیشن ارکان کی جانب سے ٹی او آرز میں وزیراعظم نواز شریف کا نام شامل کرنے پر زور دیتے رہے تاہم حکومتی ارکان نے وزیراعظم کا نام شامل کرنے کی مخالفت کی اجلاس کے دوران اعتزاز احسن نے کہاکہ اگر حکومتی ارکان وزیراعظم کا نام نکالنے پر زور دیتے ہیں تو بہتر ہے کہ ٹی او آرز میں حسین نواز کے والد کا نام شامل کرلیا جائے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہاکہ تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں کہ تحقیقات کا آغاز وزیراعظم کے خاندان سے ہو، ہم چاہتے ہیں وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کی جائیداد اور ٹیکس سے متعلق تفصیلات سامنے لائی جائیں ٗہمارے ٹی او آرز میں سب کے لئے یکساں انصاف ہے، ہمارے سوال بنیادی ہیں جن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہے تو 15 نکاتی ٹی او آرز میں اضافہ کرسکتی ہے، مریم اور حسین نواز کا نام پاناما پیپرزمیں ہے ٗگزشتہ روز ہم نے تجویز دی تھی کہ 15 سوال میں سے 2 سوال نکال بھی سکتے ہیں تاہم ہم نے وزیراعظم کا نام انکوائری سے نکالنے کی تجویز نہیں دی، اگر وزیراعظم نواز شریف کا نام نکال بھی دیں تو حسن اور حسین کے والد اور مریم نواز کے سرپرست کے طور پر بھی ان کا نام آئیگا۔چوہدری اعتزاز نے اس تاثر کو رد کیا کہ حزبِ اختلاف اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم 15 ضوابطِ کار پر مصر ہیں اور ہم نے کسی وقت بھی وزیر اعظم کو استثنیٰ دینے کی بات نہیں کی۔انھوں نے کہا کہ اگر نواز شریف کا نام ضوابط کار سے نکال بھی دیا جائے تب بھی وہ والد کے طور پر تفتیش کے دائرے میں آتے ہیں۔چوہدری اعتزاز نے اس تاثر کو بھی رد کرنے کی کوشش کی کہ حزبِ اختلاف کے درمیان کسی قسم کا اختلاف ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج حکومت کے ساتھ بات چیت ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت سپن ڈاکٹرنگ کے ذریعے مقاصد حاصل نہیں کر پائے گی اور اگر کوئی معاہدہ ہوا تو وہ کلیت میں ہو گا ٗانھوں نے کہا کہ ہم اپنے موقف پر قائم ہیں اور قائم رہیں گے۔تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن کا اصولی موقف ہے جس سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے، حکومت صرف کمیشن بنا کر حجت تمام کرنا چاہتی ہے، حکومت سمجھتی ہے لفاظی سے معاملہ نمٹ جائیگا، پیشرفت ہوگی تو مکمل ہوگی ورنہ نہیں ہوگی، اپوزیشن نے گزشتہ روز فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابتدائیے پر اتفاق کیا تھا، ہم نیک نیتی سے آگے بڑھے اب حکومت کا کام ہے، اگر حکومت نے ہمارے اگر 15 سوال نہ مانے تو متفق ابتدائیے کو بھی ختم سمجھیں۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ اگر ٹی او آرز پر ہمارا معاہدہ ہو جاتا ہے توتحقیقات کے لئے ناموں کی فہرست پر بات کریں گے ایک سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جہاں تک ٹی او آرز کا تعلق ہے حکومت ان میں جتنا اضافہ چاہے گی ہم اس پر بات کریں گے اور ان کے سوالات کو شامل کریں گے ٗہم اپنے نکات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔اعتزاز احسن نے کہاکہ اپوزیشن اپنے ٹی اوآرپرقائم ہے،مطالبہ ہے جس کا نام پاناما میں آیا ہے اس کے والدین، بھائی، بہن وغیرہ سے تحقیقات کی جائے،پاناما کے معاملے پراپوزیشن ایک صفحے پرہے۔
پاناما لیکس ،حکومت کے اصل عزائم سامنے آگئے،پیپلزپارٹی کانرم موقف،تحریک انصاف ڈٹ گئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موٹر سائیکل سوار افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)
-
نیٹ میٹرنگ ! سولر صارفین کو بڑی سہولت مل گئی
-
محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں کی پیشگوئی کردی
-
ملازمین کی کم از کم ماہانہ اجرت، بڑی خوشخبری آگئی
-
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں بڑی چھلانگ، فی اونس نرخ 4500 ڈالر سے تجاوز کرگیا
-
کھیرے کے ٹکڑوں پر گھر میں بنا یہ پاؤڈر چھڑکیں اور چوہوں اور کاکروچز سے نجات پائیں
-
موسمِ سرما کی پہلی برف باری
-
ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑی کمی
-
پاکستان میں کینسر کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ، نئی تحقیق میں اہم انکشافات
-
سرکاری ملازمین کی شادی شدہ بیٹیوں کے لیے نوکری، بڑی خبر آگئی
-
بینک اسلامی نے شرعی اصولوں پر مبنی سونے کی بنیاد پر ملک کی پہلی فنانسنگ سہولت کا آغاز کر دیا
-
زلزلے کے جھٹکے، شہریوںمیں خوف وہراس پھیل گیا
-
اداکارہ مسکان ملک سڑک کنارے دودھ کی ٹھنڈی بوتلیں فروخت کرنے پر مجبور



















































