جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

خواب ادھورے رہ گئے،امریکہ کے جواب پر بھارت ششدر

datetime 27  مئی‬‮  2016 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی چیئرمین سینٹ فارن ریلیشن کمیٹی نے بھارت کو نیوکلیئرسپلائرگروپ کی رکنیت دینے کی مخالفت کردی ۔ سینیٹرایڈمار کے نے کہاکہ بھارت این ایس جی میں شمولیت کی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔امریکی سینٹ فارن ریلیشن کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرایڈمارکے نے کمیٹی کو بتایا کہ بھارت کی نیو کلیئرسپلائرگروپ میں شرکت سے خطے میں نئی ایٹمی دوڑ شروع ہوسکتی ہے ٗبھارت کو این ایس جی کا رکن بنانے کا مطلب ایک نئی ایٹمی جنگ کو ہوا دینا ہے۔ایڈ مارکے نے کہا کہ بھارت کو پہلے ہی نیوکلیئرمعاملات میں چھوٹ دی جاچکی ہے تاہم بھارت کورکنیت ملنے پرپاکستان اپنے ایٹمی ہتھیارفرنٹ لائن پرلاسکتا ہے۔دریں اثناء امریکی سینیٹر ایڈ مارکی نے خبردار کیا ہے کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں بھارت کی شمولیت سے جنوبی ایشیا میں ایک نہ ختم ہونے والی ایٹمی دوڑ کا آغاز ہوجائیگا۔سینیٹرمارکی نے جنوبی ایشیا کے لیے امریکا کی اسسٹنٹ سیکرٹری نشا بسوال کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ آپ کر رہے ہیں اس سے ایک ایسا ماحول پیدا ہوجائیگا جو کبھی نہ ختم ہونے والے ایک سائیکل کو جنم دیگا جس کے بعد پھر جنگی ایٹمی ہتھیاروں سمیت دیگر جوہری ہتھیار تیار کیے جائیں گے۔امریکہ ٗ بھارت تعلقات کے حوالے سے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی سماعت کے دوران سینیٹر مارکی نے امریکی عہدیداران کو یاد دلایا کہ اوباما انتظامیہ کی بھارت کو این ایس جی میں شمولیت میں مدد دینا خطرناک اور غیر ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کو دی جانے والی ان مراعات سے پاکستان بھی اپنی جوہری صلاحیت میں اضافہ کرے گاجو ایک بہت خطرناک رجحان ہے، خاص طور پر اْس وقت جبکہ ہم جوہری ہتھیاروں کے غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں میں جانے کے حوالے سے کافی فکرمند ہیں۔سینیٹر مارکی نے کہاکہ اگر بھارت این ایس جی کی رکنیت حاصل کرلیتا ہے تو وہ واحد حکومت ہوگی جو نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی (این پی ٹی) کا حصہ نہیں ہوگی۔س موقع پر اسسٹنٹ سیکریٹری بسوال نے کہا کہ صدر براک اوباما نے یہ یقین دلایا ہے کہ بھارت شرائط پر پورا اترتا ہے اور این ایس جی میں شمولیت کیلئے تیار ہے تاہم سینیٹر مارکی نے اْن کی اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ این ایس جی کی شرائط کو واضح طور پر پڑھنے سے اس منطقی انجام پر پہنچا جاسکتا ہے۔انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہم بھارت کو رعایت دے رہے ہیں تو ہم پاکستان کو اپنی مرضی کرنے سے کس طرح سے روک سکتے ہیں؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…