پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

خواب ادھورے رہ گئے،امریکہ کے جواب پر بھارت ششدر

datetime 27  مئی‬‮  2016 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی چیئرمین سینٹ فارن ریلیشن کمیٹی نے بھارت کو نیوکلیئرسپلائرگروپ کی رکنیت دینے کی مخالفت کردی ۔ سینیٹرایڈمار کے نے کہاکہ بھارت این ایس جی میں شمولیت کی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔امریکی سینٹ فارن ریلیشن کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرایڈمارکے نے کمیٹی کو بتایا کہ بھارت کی نیو کلیئرسپلائرگروپ میں شرکت سے خطے میں نئی ایٹمی دوڑ شروع ہوسکتی ہے ٗبھارت کو این ایس جی کا رکن بنانے کا مطلب ایک نئی ایٹمی جنگ کو ہوا دینا ہے۔ایڈ مارکے نے کہا کہ بھارت کو پہلے ہی نیوکلیئرمعاملات میں چھوٹ دی جاچکی ہے تاہم بھارت کورکنیت ملنے پرپاکستان اپنے ایٹمی ہتھیارفرنٹ لائن پرلاسکتا ہے۔دریں اثناء امریکی سینیٹر ایڈ مارکی نے خبردار کیا ہے کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں بھارت کی شمولیت سے جنوبی ایشیا میں ایک نہ ختم ہونے والی ایٹمی دوڑ کا آغاز ہوجائیگا۔سینیٹرمارکی نے جنوبی ایشیا کے لیے امریکا کی اسسٹنٹ سیکرٹری نشا بسوال کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ آپ کر رہے ہیں اس سے ایک ایسا ماحول پیدا ہوجائیگا جو کبھی نہ ختم ہونے والے ایک سائیکل کو جنم دیگا جس کے بعد پھر جنگی ایٹمی ہتھیاروں سمیت دیگر جوہری ہتھیار تیار کیے جائیں گے۔امریکہ ٗ بھارت تعلقات کے حوالے سے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی سماعت کے دوران سینیٹر مارکی نے امریکی عہدیداران کو یاد دلایا کہ اوباما انتظامیہ کی بھارت کو این ایس جی میں شمولیت میں مدد دینا خطرناک اور غیر ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کو دی جانے والی ان مراعات سے پاکستان بھی اپنی جوہری صلاحیت میں اضافہ کرے گاجو ایک بہت خطرناک رجحان ہے، خاص طور پر اْس وقت جبکہ ہم جوہری ہتھیاروں کے غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں میں جانے کے حوالے سے کافی فکرمند ہیں۔سینیٹر مارکی نے کہاکہ اگر بھارت این ایس جی کی رکنیت حاصل کرلیتا ہے تو وہ واحد حکومت ہوگی جو نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی (این پی ٹی) کا حصہ نہیں ہوگی۔س موقع پر اسسٹنٹ سیکریٹری بسوال نے کہا کہ صدر براک اوباما نے یہ یقین دلایا ہے کہ بھارت شرائط پر پورا اترتا ہے اور این ایس جی میں شمولیت کیلئے تیار ہے تاہم سینیٹر مارکی نے اْن کی اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ این ایس جی کی شرائط کو واضح طور پر پڑھنے سے اس منطقی انجام پر پہنچا جاسکتا ہے۔انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہم بھارت کو رعایت دے رہے ہیں تو ہم پاکستان کو اپنی مرضی کرنے سے کس طرح سے روک سکتے ہیں؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…