کراچی (این این آئی)پاک افغان سرحد کے قریب کوچکی کے مقام پر امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے محمدولی کی شخصیت کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آرہے ہیں ۔امریکی حکام اور افغان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ محمد ولی نامی شخص تحریک طالبان افغانستان کا امیر ملا اختر منصور ہے جبکہ پاکستان نے تاحال اس حملے میں ملااختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے ۔محمد ولی کے حوالے سے حساس اداروں نے کراچی میں بھی اپنی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور انکشاف ہوا ہے کہ وہ کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں واقع بسم اللہ ٹیرس میں ایک فلیٹ کا مالک ہے جبکہ اس کامیونسپل کارپوریشن چمن میں ووٹ بھی رجسٹرڈ ہے ۔ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد کے قریب امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے محمد ولی کی شخصیت پراسرار بن گئی ہے ۔امریکی اور افغان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ شخص تحریک طالبان افغانسان کا امیر ملا اختر منصور ہے جبکہ پاکستانی حکام اس کی تصدیق نہیں کررہے ہیں کہ کوچکی حملے میں مارا جانے والا شخص طالبان امیر ملااختر منصور ہے ۔حملے کا شکار ہونے والی گاڑی سے ملنے والے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے مطابق پر محمد ولی کی تاریخ پیدائش یکم جنوری 1972 ہے ۔شناختی کارڈ پر موجودہ پتے میں کراچی کے بسم اللہ ٹیرس کے فلیٹ نمبر B-16جبکہ مستقل پتہ میں چمن کا ایڈریس درج ہے ۔جبکہ ولی محمد کا ووٹ میونسپل کارپوریشن چمن میں درج ہونے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق محمد ولی کے شناختی کارڈ کراچی کا رہائشی پتہ درج ہونے کے بعد حساس اداروں نے اپنی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے ۔محمد ولی نے کالعدم تنظیم کے کمانڈر سے بسم اللہ ٹیرس کا مذکور ہ فلیٹ خریدا تھا ۔اس سے قبل ایک کالعدم تنظیم کے کراچی کا نائب کماندر جبار چریا اس فلیٹ کا مالک تھا ۔ذرائع کے مطابق جبار چریا کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے اور اس سے تفتیش کی جارہی ہے کہ اس کے محمد ولی سے کس نوعیت کے تعلقات تھے اور محمد ولی کی اصل شخصیت کیا تھی ۔سہراب گوٹھ میں بسم اللہ ٹیرس میں محمد ولی کے فلیٹ میں کرائے پر رہنے والے محمد شاہد نے میڈیا کوبتایا کہ اس نے چند ماہ قبل فلیٹ کرائے پر لیا ہے ۔ محمد شاہد نے کہا کہ فلیٹ اسٹیٹ ایجنٹ کے ذریعے کرائے پر حاصل کیا ۔ فلیٹ لیتے وقت اس کی محمد ولی سے بھی ملاقات ہوئی تھی تاہم کرایہ نامہ مکمل ہونے کے بعد کبھی محمد ولی سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ محمد شاہد نے کہا کہ اسے میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ محمد ولی نوشکی میں مارا گیا ہے جس کے بعد اس نے تمام صورتحال سے پولیس اور رینجرز کو آگاہ کر دیا جبکہ کرایہ نامہ بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر دیاہے ۔فلیٹ کے مالک کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے شخص کی شکل و صورت دکھائے جانے والے خاکے سے بالکل مختلف تھی۔ذرائع کے مطابق حکام نے محمد ولی کے اسٹیٹ ایجنٹ اور فلیٹ کے چوکیداروں کے بیانات قلم بند کر لیے ہیں۔ اسٹیٹ ایجنٹ یاسر عرفات نے بیان دیا ہے کہ محمد ولی بی سولہ فلیٹ میں خود رہتا تھا اور پھر فلیٹ کرائے پر دیا جس کا قومی شناختی کارڈ اور فلیٹ کے تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں۔ محمد ولی تین سے چار ماہ بعد آ کر کرایہ وصول کرتا تھا ۔
امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونیوالامحمد ولی کراچی میں کیا کرتا رہا؟ حیرت انگیز انکشافات،اہم گرفتاری ہوگئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرول اور ڈیزل سستا کردیا گیا
-
عمران خان بھٹو
-
لائبہ اعجاز کیس میں نیا موڑ، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کی موجیں، نومبر میں مسلسل 3 چھٹیاں ملنے کا امکان
-
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا ریکارڈ قائم جو شاید کبھی نہ ٹوٹ سکے
-
عرفان پٹھان کو افغان کرکٹر راشد خان کے گھر دعوت کی ویڈیو مہنگی پڑگئی
-
زلزلے کے جھٹکے
-
صاحبزادہ فرحان نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ابھیشیک شرما کا بڑا ریکارڈ توڑ دیا
-
اپنا گھر سکیم، شہریوں کے لیے قرض کا حصول مزید آسان ہوگیا
-
کراچی : گھر سے 5 افراد کی لاشیں ملنے کا واقعہ : پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کا اہم انکشاف
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان
-
شعیب ملک سے شادی کی افواہیں، اداکارہ ونیزہ ستار نے خاموشی توڑ دی
-
اسکولوں کے نئے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاری
-
ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی



















































