اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم کااستعفیٰ ،پیپلزپارٹی نے بالاخر سرپرائز دیدیا

datetime 20  مئی‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)سندھ کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیونے کہاہے کہ وزیر اعظم کے استعفے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے،بلاول بھٹو کا وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ پارٹی پالیسی ہے، آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی پالیسی میں کوئی فرق نہیں ہے، بجلی کا بحران اور لوڈ شیڈنگ کا عذاب وفاقی حکومت کا پیدا کردہ ہے جب کہ وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی متعصب ہیں اوروہ صرف پنجاب کی بات کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کوکراچی ایکسپوسینٹرمیں ایجوکیشن ایکسپو کے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔مولابخش چانڈیونے کہاکہ بجلی کے موجودہ بحران کی ذمہ داری وفاقی حکومت پرعائد ہوتی ہے اور لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھی وفاق کا پیدا کردہ ہے، اگر تھر پروجیکٹ کو بے نظیر بھٹو اور سندھ کا منصوبہ سمجھ کر کینسل نہ کیا جاتا تو آج یہ بحران ہی پیدا نہ ہوتا، لیکن وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیرعلی متعصب ہیں اور وہ صرف پنجاب کی بات کرتے ہیں اور چھوٹے صوبوں کو پریشانی میں دیکھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔مشیراطلاعات نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی بحران ایک موضوع بنا ہوا ہے وہ لوگ جو سینہ ٹھونک کر کہا کرتے تھے کہ ہم یہ بحران ختم کردیں گے وہ کہاں گئے وہ آئیں اور سندھ کی حالت دیکھیں، سندھ میں کئی کئی گھنٹے بجلی نہیں ہوتی، مینار پاکستان پر بیٹھ کر پنکھا جھلنے والے اور ریلیاں نکالنے والے وزیر اعلی پنجاب آج کیوں خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف تو پہلے ریلیوں اورجلوسوں میں وفاقی حکومت کے خلاف قیادت کرتے تھے،ان کے دور میں ہی وفاق کے خلاف تحریک چلانے کی روایت قائم ہوئی تھی اگر اس وقت وہ ایسا نہ کرتے تو آج ان کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے، نواز شریف اور شہباز شریف جب بھی وزیراعلی بنے وفاق کے خلاف سازش کا حصہ بنے۔مولابخش چانڈیو نے کہاکہ حکومت نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس پر استعفی کے مطالبے کے علاوہ کیا رہ جاتا ہے اب وزیر اعظم کے پاس استعفی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔سندھ کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ میں خواجہ اظہار الحسن کے سندھ حکومت پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…