جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

وزیر اعظم کااستعفیٰ ،پیپلزپارٹی نے بالاخر سرپرائز دیدیا

datetime 20  مئی‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)سندھ کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیونے کہاہے کہ وزیر اعظم کے استعفے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے،بلاول بھٹو کا وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ پارٹی پالیسی ہے، آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی پالیسی میں کوئی فرق نہیں ہے، بجلی کا بحران اور لوڈ شیڈنگ کا عذاب وفاقی حکومت کا پیدا کردہ ہے جب کہ وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی متعصب ہیں اوروہ صرف پنجاب کی بات کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کوکراچی ایکسپوسینٹرمیں ایجوکیشن ایکسپو کے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔مولابخش چانڈیونے کہاکہ بجلی کے موجودہ بحران کی ذمہ داری وفاقی حکومت پرعائد ہوتی ہے اور لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھی وفاق کا پیدا کردہ ہے، اگر تھر پروجیکٹ کو بے نظیر بھٹو اور سندھ کا منصوبہ سمجھ کر کینسل نہ کیا جاتا تو آج یہ بحران ہی پیدا نہ ہوتا، لیکن وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیرعلی متعصب ہیں اور وہ صرف پنجاب کی بات کرتے ہیں اور چھوٹے صوبوں کو پریشانی میں دیکھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔مشیراطلاعات نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی بحران ایک موضوع بنا ہوا ہے وہ لوگ جو سینہ ٹھونک کر کہا کرتے تھے کہ ہم یہ بحران ختم کردیں گے وہ کہاں گئے وہ آئیں اور سندھ کی حالت دیکھیں، سندھ میں کئی کئی گھنٹے بجلی نہیں ہوتی، مینار پاکستان پر بیٹھ کر پنکھا جھلنے والے اور ریلیاں نکالنے والے وزیر اعلی پنجاب آج کیوں خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف تو پہلے ریلیوں اورجلوسوں میں وفاقی حکومت کے خلاف قیادت کرتے تھے،ان کے دور میں ہی وفاق کے خلاف تحریک چلانے کی روایت قائم ہوئی تھی اگر اس وقت وہ ایسا نہ کرتے تو آج ان کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے، نواز شریف اور شہباز شریف جب بھی وزیراعلی بنے وفاق کے خلاف سازش کا حصہ بنے۔مولابخش چانڈیو نے کہاکہ حکومت نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس پر استعفی کے مطالبے کے علاوہ کیا رہ جاتا ہے اب وزیر اعظم کے پاس استعفی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔سندھ کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ میں خواجہ اظہار الحسن کے سندھ حکومت پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتا ہوں۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…