اسلام آباد(این این آئی)پیمرا کو جرائم کی ڈرامائی تمثیل کاری سے متعلق چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے چھاپے مارنے کے پروگراموں جو کہ متعدد ٹی وی چینلز پر کثیر تعداد میں چل رہے ہیں کیخلاف ناظرین کی طرف سے بے شمار شکایات موصول ہوتی رہی ہیں۔ ناظرین ان پروگراموں میں قتل، ڈکیتی، خودکُشی اور آئین میں دیئے گئے انسانی حقوق کی خلاف ورزی جیسے مناظر دکھانے پر شدید تشویش کا اظہارکرتے رہے ہیں۔ ریپ کیسز کے حوالے سے متاثرہ شخص کی تصاویر ، نام اور اس کے رشتہ داروں کی شناخت ظاہر کرنے کے رجحان اور ایسے متاثرہ اشخاص یا اُسکے فیملی ممبرز کے ساتھ ٹی وی شوز کرنے کے رجحان پر بھی سخت تنقید کی گئی۔ کیمرا، مائیک پکڑ کر چادر اورچاردیواری کی پامالی کے بڑھتے ہوئے واقعات پربھی تشویش کا اظہار کیاگیا۔ناظرین کا مطالبہ ہے کہ ایسے تمام پروگراموں، بریکنگ نیوز، ٹکرزاور تصاویر وغیرہ پر پیمرا قوانین کے تحت پابندی لگائی جائے۔ سینٹ و نیشنل اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں نے بھی ڈرامائی تمثیل کاری کے پروگراموں پر پابندی عائدکرنے کی ہدایات دی ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے بھی ایک پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے ایسے تمام پروگراموں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے اورپنجاب اسمبلی نے ایک قرارداد منظورکرتے ہوئے اِن پروگراموں پر مکمل پابندی عائدکرنے کی ہدایت کی ہے۔قانون نافذکرنے والی ایجنسیاں بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اِن پروگراموں کے نشر ہونے سے نوجوان نسل میں جرائم کرنے کے تناسب میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور متعدد مجرموں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ واردات کرنے کے اچھوتے اور نت نئے طریقے انہوں نے ٹی وی پر نشر ہونے والے تمثیل کاری کے پروگراموں سے سیکھے ہیں۔اِن تمام تر تحفظات کے پیشِ نظر پیمرا پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آئین اور قانون کے منافی نشر ہونیوالی خبر، تبصرے، پروگرام اور ٹکرز کے بارے میں اپنی ذمہ داری ادا کرے۔پیمرا اس سنگین صورتحال سے ٹی وی چینلز مالکان کو کئی مواقع پر آگاہ کرتا رہا ہے تاہم اس حساس معاملے پر کسی بھی چینل کی طرف سے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں مِلا۔تاہم ا اتھارٹی کی متعدد میٹنگز میں ان پروگراموں پر سیر حاصل بحث ہوئی اور یہ فیصلہ جاری کیاگیا کہ ان پروگراموں کیخلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے ان پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔اس پابندی کے عائد ہونے کے بعداگر کوئی ٹی وی چینل خلاف ورزی کرتا ہے تو اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے اتھارٹی نے منعقدہ 112ویں اجلاس میں چیئرمین پیمرا کو یہ اختیار تفویض کر دیا ہے کہ وہ چینلز کا لائسنس فوری طورپر معطل کر دیں ۔تاہم تحقیقاتی رپورٹنگ کی آئینی، صحافتی اصولوں اور شرائط وضوابط کے تحت اجازت ہوگی یہ شرائط وضوابط طے کیے جا رہے ہیں اور تمام ٹی وی چینلز کو جلدجاری کر دیئے جائیں گے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ہائوس آف شریف
-
اس رمضان 29 روزے ہونگے یا 30؟ پیشگوئی کر دی گئی
-
عیدالفطر کی تعطیلات کا اعلان ، نوٹیفکیشن جاری
-
پاکستان میں عیدالفطر پر کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ اہم خبر آگئی
-
راولپنڈی، 12 سالہ بچے سے مسجد میں زیادتی، ملزمان نے ویڈیو بھی وائرل کردی
-
7افراد کی بوائے فرینڈ کے سامنے خاتون سے اجتماعی زیادتی
-
کن شہریوں کے پاسپورٹ بلاک کیے جارہے ہیں؟ بڑی خبر آگئی
-
’سلمان آغا ٹی 20 ورلڈ کپ کے بعد کپتان نہیں رہیں گے‘
-
رمضان میں ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لئے اہم خبر آگئی
-
ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان، انگلینڈ سے شکست کے بعد سیمی فائنل کیسے کھیل سکتا ہے؟
-
دلہن کو اسٹیج پر گولی مار دی گئی
-
قومی شناختی کارڈ کے سیکیورٹی فیچر تبدیل کر دئیے گئے، تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری
-
بھارتی کھلاڑی ٹیم کو چھوڑ کر اچانک گھر روانہ
-
10 روپے کا نوٹ ختم ؟ حکومتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آگئی



















































