جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

امریکہ نے پاکستان کو فوجی امداد کی فراہمی پرعائد شرائط کو مزید سخت کر دیں

datetime 20  مئی‬‮  2016 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکہ نے پاکستان کو فوجی امداد کی فراہمی پرعائد شرائط کو مزید سخت کرتے ہوئے امداد ڈاکٹرشکیل آفریدی کی رہائی اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے مشروط کردی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایوان نمائندگان نے 602 ارب ڈالر مالیت کے امریکی فوجی بجٹ 2017 کے پالیسی بل کی منظوری دی ایوان نمائندگان کے277 میں سے 147 ارکان نے مخصوص شرائط کے پورا نہ ہونے تک پاکستان کی فوجی امداد پر پابندیوں میں اضافے کے حوالے سے دفاعی پالیسی کے ایک بل کے حق میں ووٹ دیا ۔بل میں پاکستان کو ساڑھے 45 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد کے حوالے سے شرائط مزید سخت کرنے کا کہا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے فوجی اخراجات کے بل میں پاکستان کے حوالے سے تین ترامیم کو پیش کیا گیا جسے متفقہ طورپرمنظورکرلیا گیا جس کے مطابق القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی جاسوسی کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بین الاقوامی ہیرو قرار دیتے ہوئے اس کی رہائی، حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی اور فوجی امداد میں ملنے والے فنڈز یا فوجی آلات کو اقلیتی گروہوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔ایوان نمائندگان نے شرط عائد کی کہ جب تک پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں کے لئے اقدامات نہیں کرتا اس وقت تک ساڑھے 45 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد روک دی جائے جب کہ بل میں حقانی نیٹ ورک کو افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کے لئے بڑا خطرہ قراردیا ہے۔این ڈی اے اے کی منظور کے بعد پاکستان کو 45 کروڑ ڈالر (450 ملین ڈالر) کی امداد ا±س وقت تک روک جائے گی، جب تک پاکستان عسکریت پسند گروپ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہیں کرتا، جسے قانون ساز افغانستان میں امریکی فورسز کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔بل میں پینٹاگون سے اس بات کی تصدیق طلب کی گئی کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف فوجی آپریشنز کر رہا ہے اور اس نے نیٹ ورک کو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ شمالی وزیرستان کو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرے اور یہ بھی کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ایوان کے ارکان نے مذکورہ بل کے 2017 ورڑن میں پاکستان کے حوالے سے 3 ترامیم بھی شامل کیںجنھیں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ایک ترمیم میں امداد کی ریلیز کی چوتھی شرط کو شامل کیا گیا اور انتظامیہ سے تصدیق طلب کی گئی کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کے سینئر رہنماو¿ں اور درمیانے درجے کے کارکنوں کو گرفتار کرنے اور ان پر مقدمہ چلانے کے حوالے سے پیش رفت دکھائی ۔دوسری ترمیم میں سیکرٹری دفاع سے تصدیق طلب کی گئی کہ پاکستان اپنے فوجی یا دیگر فنڈز یا امریکہ کی جانب سے فراہم کیا گیا سازوسامان اقلیتی گروپوں پر ظلم وستم کے لیے استعمال نہیں کر رہا۔واضح رہے کہ رواں ماہ کے شروع میں ہی امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی نے پاکستان کے لیے امریکی امداد کی فراہمی پر عائد شرائط سخت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک امریکی دفترِ خارجہ اس بات کی تصدیق نہیں کرتا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف مناسب کارروائی کر رہا ہے اسے کوالیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں 45 کروڑ ڈالر ادا نہیں کیے جا سکتے۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…