برطانیہ میں ایک گائے نے وہ کام کر دیا ہے کہ جس کی کوئی بھی اس سے توقع نہیں کر رہا تھا۔ بکنگھم شائر سے تعلق رکھنے والی خاتون لز رابنسن نے اپنے خاوند اور بہن کے ساتھ مل کر ایک فارم بنا رکھا ہے جہاں وہ گائیں پالتے ہیں اور پھر انہیں گوشت کیلئے فروخت کرتے ہیں۔ چونکہ وہ نسل کشی نہیں کرتے لہٰذا ان کے فارم پر بیل کی ضرورت نہیں ہے اور یہاں صرف گائیں رکھی جاتی ہیں۔ لز کہتی ہیں کہ انہیں اچانک نصف شب کے قریب باڑے میں سے کچھ آوزیں آئیں تو وہ اور ان کے خاوند وہاں پہنچے اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایک گائے بچھڑے کو جنم دے رہی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی گائیں کبھی باڑے سے باہر نہ گئی تھیں اور نہ ہی وہاں کبھی کوئی بیل لایا گیا تھا۔ ڈیکسٹر نامی گائے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس میں کوئی ایسے آثار بھی نظر نہ آئے جن سے توقع کی جا سکتی تھی کہ وہ بچھڑے کو جنم دے گی۔ لز کہتی ہیں کہ یہ گائے بھی دیگر چھ گائیوں کے ساتھ لائی گئی تھی اور فارم کے ملازمین بھی حیران ہیں کہ یہ کیا ہوا۔ لز اور ان کا سٹاف تاحال معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے مگر ابھی تک بچھڑے کی پیدائش کا معمہ حل نہیں ہو سکا۔ ننھے بچھڑے کو فارم میں لگائے گئے پھولوں کی نسبت سے ”پیٹل“ کا نام دیا گیا ہے۔
کنواری بھینس کے ہاں ‘ننھے مہمان’ کی آمد،مگر کیسے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اپنا گھر بنانا اب بہت آسان ہوگیا، حکومت نے اہم قدم اٹھالیا
-
عوام ہو شیا ر ہے! آندھی ، بارشوں اور ژالہ باری کا الرٹ جاری
-
ملک بھر میں 25 اور 26 جون کو تعطیل کا امکان
-
امریکا ایران ڈیل، تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی
-
چینی کا استعمال مکمل ختم کرنے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟تحقیق میں حیران کن انکشافات
-
کسانوں کیلئے خوشخبری حکومت نے بڑا اعلان کردیا
-
ایک ساتھ 4 تعطیلات، سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خبر آگئی
-
چکوال،آسٹریلوی خاندان پر سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق 9 سالہ بجی کے مقدمے میں اہم پیشرفت
-
آسٹریلیاکا ریکارڈ ٹوٹ گیا،سعودی عرب کی دنیا کی سب سے لمبی سیدھی سڑک
-
زلزلہ کے جھٹکے،لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا
-
سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں اچانک بڑا اضافہ
-
یکم جولائی سے کون کتنا ٹیکس ادا کرے گا ؟ اعدادوشمار سامنے آگئے
-
50 ڈالر سے 13ارب ڈالر تک کاسفر،برتن دھونے والےشاہد خان کیسے بنے امیر ترین پاکستانی؟
-
پنجاب حکومت کا اعلیٰ تعلیمی اداروں کا نظام پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلانے کا فیصلہ



















































