ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

سانحہ ماڈل ٹاؤن سے قبل ’’ماڈل ٹاؤن ایچ بلاک‘‘ میں کیا ہوا،سابق رکن صوبائی ا سمبلی کے انکشافات

datetime 13  مئی‬‮  2016 |

لاہور ( این این آئی)سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس میں انسداد دہشتگردی کی عدالت میں اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے عوامی تحریک کے گواہ سابق رکن صوبائی اسمبلی فیاض وڑائچ نے کہا کہ 15جون 2014 کے دن مجھے اور خرم نواز گنڈا پور کو ماڈل ٹاؤن ایچ بلاک لاہور بلایا گیا ،جہاں وزیر اعظم میاں نواز شریف ،وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف،وفاقی وزراء چوہدری نثار،خواجہ سعد رفیق،خواجہ آصف،پرویز رشید ، عابد شیر علی ،صوبائی وزراء راناثناء اللہ اور ڈاکٹر توقیر شاہ پہلے سے موجود تھے ۔ ہمیں کہا گیا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے آنے سے ملکی سیاسی فضا خراب ہو جائے گی انہیں پاکستان آنے سے روکیں ورنہ ان کی آمد کو طاقت سے روکیں گے اور راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو تہس نہس کر دینگے ۔فیاض وڑائچ نے اپنے بیان میں کہا کہ15جون 2014 ء کی دوپہر چیف منسٹر ہاؤس سے فون پر ہمیں آگاہ کیا گیا کہ لاہور میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں آپ حضرات سے ڈاکٹر طاہر القادری کی وطن واپسی کے حوالے سے اہم میٹنگ کرنی ہے اور پھر شام کو وزیر اعلیٰ ہاؤس سے ایک گاڑی آئی جس کے ذریعے ہم ماڈل ٹاؤن ایچ بلاک پہنچے ،ہمارے ہمراہ منہاج القرآن کے چیف سیکیورٹی افسر سید الطاف حسین شاہ گیلانی بھی تھے ،سابق رکن صوبائی اسمبلی فیاض وڑائچ نے اپنے بیان میں کہا کہ خرم نواز گنڈا پور نے شرکائے میٹنگ کو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی وطن آمد کا شیڈول حتمی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی اس پر وفاقی وزیر پرویز رشید نے غصہ میں کہا کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانیں گے ۔خواجہ آصف اور عابد شیر علی نے دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے سارے انتظامات کر رکھے ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب اور حمزہ شہباز بھی طیش میں آ گئے اور انہوں نے چوہدری نثار،خواجہ سعد رفیق اور رانا ثناء اللہ پر مشتمل کمیٹی بناتے ہوئے کہا کہ اب ہم کسی اور طریقے سے نمٹیں گے ،فیاض وڑائچ نے کہا کہ حکمرانوں کے نا معقول رویے کے باعث ہم میٹنگ سے اٹھ کر آ گئے ۔ بیان قلمبند کروانے کے بعد سابق رکن صوبائی اسمبلی فیاض وڑائچ نے سنیئر وکلاء رائے بشیر احمد ایڈووکیٹ ،نعیم الدین چوہدری ایڈووکیٹ ،سردار غضنفر حسین ایڈووکیٹ اور مستغیث جواد حامد کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج عدالت کے رو برو ایک اہم گواہی پیش کی گئی ،موجودہ حکمرانوں نے ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان آمد روکنے کیلئے کھلے عام دھمکیاں دیں جو ریکارڈ پر ہیں کسی نے جن نکالنے کی بات کی ،کسی نے دھونی دینے کی بات کی اور پھر 17جون 2014کے سانحہ کی صورت میں ان دھمکیوں پر عملدرآمد بھی کیا گیا اور 14 بے گناہوں کو شہید اور 85سے زائد کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا ،انہوں نے بتایا کہ 17جون 2016کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دو سال مکمل ہو رہے ہیں ہم شہداء سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم شہدا منا رہے ہیں ،انشا اللہ تعالیٰ 17جون کو پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری بھی اپنے عوام ،شہداء کے ورثاء اور کارکنوں کے درمیان ہو نگے ۔



کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…