پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایم کیو ایم کارکن کی ہلاکت ، عالمی ادارے کا پاکستان سے اہم مطالبہ

datetime 5  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد (ویب ڈیسک)انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک بیان میں پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ کراچی میں سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن آفتاب احمد کی دوران حراست ہلاکت کی خود مختار، جامع اور شفاف تحقیقات کرائیں۔رینجرز کی حراست میں مبینہ طور پر تشدد کے باعث آفتاب احمد کی ہلاکت کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بدھ کو ایک بیان میں اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔آفتاب احمد طویل عرصہ سے ایم کیو ایم کے رکن اور سینئیر رہنما فاروق ستار کے معاون کے طور پر کام کر رہے تھے۔اْنھیں اغواء برائے تاوان، ہدف بنا کر قتل کرنے اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات پر یکم مئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔تین مئی کو اْنھیں تشویشناک حالت میں کراچی کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نا ہو سکے۔متحدہ قومی موومنٹ کا موقف ہے کہ آفتاب احمد کی موت کی وجہ اْن پر کیا جانے والا جسمانی تشدد تھا۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات کو آفتاب احمد کے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی اْن کے جسم پر تشدد کے نشانات سامنے آئے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کی ڈپٹی ڈائریکٹر جمین کور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’اس خوفناک انکشاف کے بعد کہ آفتاب احمد رینجرز کی تحویل میں ہلاک ہوا، اس کی خود مختار، مؤثر اور شفاف تحقیقات ہونا چاہیءں۔‘‘آفتاب احمد کی موت کے فوراً بعد رینجرز کی طرف سے بیان میں کہا گیا تھا کہ اْن کی موت دل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوئی۔ تاہم سندھ رینجرز کے سربراہ بلال اکبر نے اس واقعہ میں ممکنہ طور پر ملوث اہلکاروں کو معطل کر کے تحقیقات کا حکم بھی دے دیا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جمین کور کا کہنا تھا کہ رینجرز کی طرف سے خود اس واقعہ کی تحقیقات کرنا کافی نہیں۔ایمنسٹی کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ رینجرز اور دیگر سکیورٹی فورسز کی جانب سے کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سے آگاہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…