پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

دین جس سے منع کرتا ہے وفاقی وزیر نے اسے لازمی قرار دے دیا

datetime 5  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی) وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کو بتایا ہے کہ ملاوٹ یا ناپ تول میں کمی کیے بغیر پاکستان میں کوئی پٹرول پمپ نہیں چل سکتا، سردیوں میں پنجاب کے سوا کہیں بھی گیس کی قلت کا مسئلہ نہیں ہو گا ٗگیس کی فراہمی کے منصوبوں پر عائد پابندی اٹھا لی گئی ہے ٗایل این جی کی درآمد کے بعد گیس کی فراہمی میں 38فیصد کا اضافہ ہوا ٗنئے چیئرمین اوگرا کا جلد نوٹیفکیشن ہو جائیگا جبکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل نے وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کے ڈائریکٹر جنرل پٹرولیم کنسیشن کو بار بار ہدایت کے باوجود طلب کئے جانے والی دستاویزات کمیٹی میں پیش نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ اجلاس میں ان سے سمن کے ذریعے وضاحت طلب کی جائے گی ٗسوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ سے نادہندہ گیس صارفین کی مکمل فہرست بھی مانگ لی ۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین بلال احمد ورک کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان ارشد خان لغاری، نواب علی وسان، جاوید اقبال وڑائچ، رانا محمد اسحاق خان، ساجد احمد، عبدالوسیم، ناصر خان خٹک، شہریار آفریدی، ملک اعتبار خان، رشید احمد خان اور دیگر ارکان کے علاوہ وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی، سیکریٹری پٹرولیم ارشد مرزا، ایم ڈی ایس این جی پی ایل امجد لطیف، ایم ڈی سوئی سدرن گیس کمپنی خالد رحمان، ایم ڈی پی ایس او عمران الحق اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ اوگرا اگر مداخلت کرے تو پٹرولیم پمپوں پر ملاوٹ اور چوری کو روکا جا سکتا ہے، اوگرا کو ملاوٹ اورچوری کرنے والے پٹرولیم پمپوں کا لائسنس منسوخ کردینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نئے چیئرمین اوگرا کے لئے انٹرویوز ہو گئے ہیں، کابینہ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کرنا ہے امید ہے کہ جلد نوٹیفکیشن ہو جائے گا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نئی گیس سکیموں پر عائد پابندی اٹھا لی گئی ہے اور وزیراعظم نے گیس کی فراہمی کی نئی سکیمیں شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل این جی کی درآمد کے بعد گیس کی فراہمی میں 38فیصداضافہ ہوا ہے، سردیوں میں پنجاب کے سوا دیگر کسی صوبے میں گیس کی قلت کا مسئلہ نہیں ہو گا۔ ہم یہ مسئلہ مستقل بنیاد پر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ پہلے سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے گھریلو صارفین کی ضرورت پوری کی جائے اس کے بعد پنجاب کے گھریلو صارفین کو ترجیح بنیاد پر گیس دی جائے اور اس کے بعد دوسرے شعبوں کو گیس کی فراہمی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت گیس پیدا کرنے والے اضلاع میں گیس کے کنویں کے قریب کے پانچ کلومیٹر کے علاقے کو ترجیح بنیاد پر گیس کی فراہمی کی پالیسی پر عمل کرنے کیلئے تیار ہے تاہم اس کے لئے فنڈز کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی کیونکہ گیس پائپ لائن بچھانے کے اخراجات اکیلے سوئی ناردن نہیں برداشت کر سکتی۔ خیبرپختونخوا میں گیس کے فی صارف پر ایک لاکھ 8 ہزار، پنجاب میں 54ہزار، سندھ میں 80 ہزار اور بلوچستان میں 2لاکھ 70ہزار روپے کے اخراجات آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مانسہرہ میں گیس کی جن سکیموں کا اعلان کیا ان کے لئے رقم وزیراعظم اپنے صوابدیدی فنڈز سے دیں گے، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اپنے صوابدیدی فنڈز سے فنڈز فراہم کر دیں تو ضلع کوہاٹ اور کرک کے گیس پیدا کرنے والے علاقوں کو بھی گیس کی فراہمی کے لئے ایس این جی پی ایل اپنے حصے کی رقم دیگی۔ ایم ڈی سوئی ناردرن نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال کے دوران ہمیں اسائنمنٹ اکاؤنٹ میں 4 ارب روپے میں سے ایک ارب روپے موصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے کے گیس پیدا کرنے والے اضلاع میں پانچ کلو میٹر تک کے علاقوں کو گیس فراہم کرنے کے لئے ہمیں کے پی کے کی حکومت کی طرف سے اگر اس کے حصہ کی رقم مل جائے تو ہم ان پر کام مکمل کرنے کے لئے تیار ہیں۔ 2015-16ء کے لئے گیس پائپ لائنیں بچھانے کا ہدف 2062 کلو میٹر ہے جس میں سے اب تک 1773 کلو میٹر طویل گیس پائپ لائنیں بچھائی جا چکی ہیں۔ 2014ء میں یہ ہدف 2600 کلو میٹر تھا جس میں سے 2207 کلو میٹر پر پائپ لائنیں بچھائی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب سے موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے، گیس کنکشن میرٹ پر دیئے جا رہے ہیں۔ اوگرا نے ہمیں سالانہ تین لاکھ تک گیس کنکشن لگانے کی اجازت دی ہے۔ اگلے سال کے لئے ہم پانچ لاکھ کنکشن لگانے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن سی این جی سٹیشنز کی جگہ ایل پی جی سٹیشنز لگائے گئے ہیں یا سی این جی سٹیشنز کو ختم کرنے کے بعد واجبات ادا نہیں ہوئے ان سے وصولی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں قانون بن چکا ہے۔ سیکورٹی کی رقم ہمارے پاس موجود ہے لیکن جو رقم باقی بچتی ہے اسے عدالتی عمل کے ذریعے وصول کیا جائے گا۔ ڈی جی آئل نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ایس او کا مارکیٹ شیئر اس وقت 65 فیصد بڑھ گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ دیہی علاقوں کے پٹرول پمپوں کی طلب پوری کی جائے تاکہ ان میں کوئی قلت پیدا نہ ہو۔ اس مرتبہ اگر تیل کی قیمتیں بڑھتیں تو یقینی طور پر دیہی علاقوں میں واقع پٹرول پمپوں پر قلت پیدا ہو جاتی۔ اس مسئلہ کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جانا چاہئے۔ وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شہروں اور دیہات میں واقع پٹرول پمپوں کو مساوی تیل کی فراہمی ممکن نہیں ہے، کسی ایک کی فراہمی کم کر کے دوسرے کو تیل فراہم مہیاء نہیں کیا جا سکتا، اس طرح شہروں میں قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے تاہم انہوں نے ہدایت کی کہ اس مسئلہ پر پی ایس او غور کرے اور اسے حل کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں تاکہ کسی علاقے کے لوگوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کمیٹی کے رکن شہریار آفریدی نے کہا کہ سیکریٹری پٹرولیم اور ایم ڈی ایس این جی پی ایل کے ساتھ مل کر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ ملاقات کے لئے تیار ہوں، خیبر پختونخوا کی حکومت کی طرف سے گیس پیدا کرنے والے اضلاع میں ویل ہیڈ کے قریبی پانچ کلو میٹر تک کے علاقوں کو گیس کی فراہمی کے لئے خیبر پختونخوا کی حکومت کی طرف سے اپنے حصہ کی رقم دینے کے معاملہ پر اس ملاقات میں بات کی جائے گی۔ قائمہ کمیٹی کے ارکان نے وزارت پٹرولیم کے ڈائریکٹر جنرل پٹرولیم کنسیشن کی طرف سے کمیٹی کو ضروری دستاویزات فراہم نہ کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ سمن کے ذریعے انہیں اجلاس میں طلب کیا جائے گا ۔اجلاس کے دوران کمیٹی کے ارکان نے یہ معاملہ اٹھایا کہ انہیں گیس کی سکیموں کے حوالے سے متعلقہ ریجنز کے منیجرز درست معلومات فراہم نہیں کرتے جس پر شاہد خاقان عباسی نے ایم ڈی سوئی ناردرن کو ہدایت کی کہ ارکان پارلیمنٹ کی سکیموں کی مکمل معلومات انہیں فراہم کی جائیں اور انہیں لاہور کا راستہ نہ دکھایا جائے کہ معلومات لاہور سے ملیں گی۔ ایم ڈی سوئی ناردرن نے کہا کہ اس سلسلے میں متعلقہ جنرل منیجرز کو پہلے ہی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ وزیر پٹرولیم نے کہا کہ میرے علاقے کا جنرل منیجر اگر مجھے کہتا ہے کہ مجھے سکیموں کا علم نہیں ہے اور اس کا تمام تر ریکارڈ لاہور میں ہے تو پھر وہ دوسرے لوگوں کو کیا کہتا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دوران سروس کوئی ملازم فوت ہو جائے تو فوری طور پر بورڈ سے منظوری لے کر اس کے لواحقین کو مالی معاوضہ فراہم کیا جائے۔ انہیں دفاتر کے چکر نہ لگوائے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…