پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

14سالہ لڑکی کیساتھ زیادتی کیس، ملزم ڈی ایس پی نے حیران کن بیان جاری کر دیا

datetime 5  مئی‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک)پنجاب پولیس کے ڈی ایس پی نے15 سالہ لڑکی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا ہے ،پولیس نے عیاش افسر کو حراست میں لیکر مقدمہ درج کر لیا ہے ۔ آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے کاہنہ میں ڈی ایس پی رینک کے پولیس افسر بابر جمیل نے 15سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر ذیادتی کا نشانہ بنا یاہے۔ متاثرہ لڑکی کے ورثا نے ملزم کے خلاف تھانے میں درخواست دی، درخواست کے مطابق گزشتہ روز ڈی ایس پی بابر زبردستی انکی بیٹی کو کار میں بیٹھا کر لے گیا اور زیادتی کا نشانہ بنادیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز نے نوٹس لیتے ہوئے ملزم ڈی ایس پی کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور فوری گرفتاری کا حکم دیدیا۔ جس پر تھانہ کاہنہ پولیس نے ڈی ایس پی بابر کو ہتکڑیاں لگا کر حوالات میں بند کردیا، جبکہ متاثرہ لڑکی کو میڈیکل کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب آئی جی پنجاب اور سی سی پی اونے بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی ہے۔لڑکی کی والدہ نے بتایا کہ ہمارا تعلق انتہائی غریب گھرانے سے ہے اور میری بیٹی مختلف گھروں میں کام کرتی ہے ،ڈی ایس پی نے میری بیٹی کو زبردستی گھر لے گیا اور زیادتی کی۔دوسری جانب ڈی ایس پی عمران بابر جمیل نے کہا ہے کہ مجھے پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے میں نے کسی لڑکی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی ہے ،مجھے بدنام کرنے کے لئے پراپیگنڈا کیا جارہا ہے ۔ایس ایس پی عمارہ اطہر نے کہا ہے کہ ڈی ایس پی پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی گئیں ہیں ،متاثرہ لڑکی سونیا اور ڈی ایس پی دونوں کا طبی معائنہ ہوگا جبکہ متاثرہ لڑکی کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کے شواہد اکٹھے کئے جارہے ہیں ٹھوس شواہد پیش کئے جانے پر سخت کارروائی کی جائے گی ۔ ترجمان پولیس کے مطابق ڈی ایس پی عمران بابر 20 فروری 2015سے مختلف الزامات پر معطل ہے اور اسکے خلاف محکمانہ انکوائری چل رہی ہیں۔ جن پر جلد فیصلہ متوقع ہے۔ واضح رہے کہ ڈی ایس پی عمران بابر جمیل کے بارے میں دلچسپ واقعہ رونما ہوتے رہیں ہیں،جب ملک ایٹمی قوت بنا تو اس وقت عمران بابر جمیل ایس ایچ او کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے ایٹمی دھماکے کرنے والے ڈاکٹر عبد القدیر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ ڈاکٹر قدیر نے مجھ سے پوچھے بغیر ایٹمی دھماکے کیوں کئے ہیں ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…