پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

آف شور کمپنیاں بنانا غیر قانونی نہیں، تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین

datetime 5  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے پانامہ لیکس پر حکومتی موقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ آﺅ مل کر بیٹھیں اور پانامہ لیکس کے مسئلے کا کوئی حل نکالیں ، چوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس میں اچھی باتیں کی ہیں ،جہانگیر ترین نے اپنی پارٹی اور اس کے سربراہ عمران خان کے موقف سے انحراف کرتے ہوئے کہاکہ آف شور کمپنیاں بنانا غیر قانونی نہیں جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ بہتر ہے کہ پانامہ لیکس کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن آپس میں فیصلہ کر لیں ، شک کو شک اور الزام کو الزام رہنے دیا جائے ، پانامہ لیکس پر وزیر اعظم سے متعلق ٹھوس ثبوت نہیں تھا ورنہ پارلیمنٹ میں ہم بھی وزیر اعظم سے سوال کرتے ، ۔وہ بدھ کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے ۔ گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہمیں مل کر بیٹھنا چاہیے یہاں تک بات ٹھیک ہے پر بہتر ہے ہم آپس میں فیصلہ کر لیں ۔ شک کو شک اور الزام کو الزام رہنے دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے اکثر بددیانت نہیں ہیں ۔ ہم اپوزیشن سے بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ جہانگیر ترین صاحب خوبصورت آدمی ہیں ان سے بات کرنے کوئی حرج نہیں ہے ۔ دھول اڑا کر ، اور ایک دوسرے کو چور ڈاکو کہہ کر چہرے گدلے کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔ سعد رفیق نے کہا کہ پانامہ لیکس پر وزیر اعظم سے متعلق ٹھوس ثبوت نہیں تھا ورنہ پارلیمنٹ میں ان سے سوال کرتے ویسے بھی آف شور کمپنی بنانا کوئی جرم یا غیر قانونی کام نہیں ہے ۔ پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ چوہدری نثار صاحب نے اپنی پریس کانفرنس میں اچھی باتیں کی ہیں ۔ اگر اپوزیشن کے بنائے گئے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے بنائے گئے ضابطہ کارکو بددیانتی مبنی قرار دے کر ماحول خراب نہ کریں ۔ انہوں نے پروگرام میں وفاقی وزیر کو پیش کش کی کہ آﺅ مل کر بیٹھیں اور مسئلہ کا حل نکالیں ۔ وہ اپنے پارٹی پالیسی کے برعکس آج بڑے خوشگوار موڈ میں تھے اور بڑے نرم لہجے میں باتیں کی ۔ انہوں نے خواجہ سعد رفیق کی اس بات سے اتفاق کیا کہ آف شور کمپنیاں بنانا غیر قانونی نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ پہلے وہ اپنے ٹویٹ میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ آف شور کمپنی بنائی ہی اسی لئے جاتی ہیں کہ اپنا غیر قانونی پیسہ چھپایا جا سکے ۔ شائد اپنے بچوں کا نام پانامہ لیکس میں آنے کے بعد ان کا موقف کمزور پڑ گیا ہے ۔ ….(م د )



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…