پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

پانامہ لیکس ، وزیر اعظم کے قوم سے دو بار خطاب سے معاملہ سنگین لگتا ہے،خورشیدشاہ

datetime 4  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد( نیوز ڈیسک)قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم کے قوم سے دو بار خطاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک اخلاقی جواز کا تعلق ہے تو آف شور کمپنیوں کے ذریعے ٹیکس نادہندگی کا مرتکب ہو کر وزیر اعظم اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے وزیر اعظم کا احتساب ہو تاکہ قوم کے سامنے ان کی پوزیشن واضع ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا سربراہ خود ٹیکس نا دہندہ بن جائے اور ٹیکس بچانے کیلئے رقوم اَف شور کمپنیوں میں چھپا دے تو پھر عام ادمی سے بھی ٹیکس وصولی کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام پارٹیاں استعفی کے معاملہ پر متفق ہیں خواہ وہ اخلاقی طور پر ہی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ اپوزیشن کی جماعتوں نے پنامہ لیکس، کرپشن ، ٹیکس چوری ، ٹیکس نادہندگی پر ایک واضع طریقہ کار طے کیا ہے اور اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ قرضوں کی معافی اور نا دہندگی کے معاملات پر بھی شفاف اور بلا تفریق چھان بین کی جائے اور قانون شکنوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ اس ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے خود احتسابی کا مطالبہ کیا ہے اور اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کب اور کیسے احتساب کا جامع عمل شروع کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے صحیع معنںوں میں قوم کی ترجمانی کی ہے اور اگر حکومت نے عوامی امنگوں کے مطابق اپنا اور سب کا احتساب کیا تو پھر یہ عمل جمہوریت کیلئے ایک نیک شگون ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سیاست وقت اور حالات کے مطابق بدلتی ہے اور سیاست میں دوستی اور مخالفت وقت اور حالات کے مطابق ہوتی ہے۔ اس لئے بدلتے ہوئے حالات میں کون کس کے قریب اجائے اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے دو سال پہلے یہ تجویز دی تھی کہ حکومتی اقتدار کی مدت پانچ سال سے کم کر کے چار سال کر دی جائے اور میڈیا نے اس تجویز کو سراہا تھا مگر حکومت نے اس تجویز پر توجہ نہ دی مگر اج کے سیاسی حالات سے ظاہر ہے کہ چار سالہ دور اقتدار ہمارے حالات کے مطابق ایک ائیڈیل قدم ہو سکتا ھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…