نیو یارک: اکثر اوقات جب ہم تھکن محسوس کرتے ہیں یا ہم پر نیند کا غلبہ ہونے لگتا ہے توہم بے اختیار جمائیاں لینے لگتے ہیں ۔ جمائیاں لیتے ہوئے شاید آپ نے کبھی غور کیا ہو کہ آپ کسی میٹنگ یا کلاس میں جمائی لے لیں اس بعد آپ دیکھیں گے آپ کے ارد گرد موجود لوگ بھی بے اختیار جمائیاں لینے لگیں گے ۔ اگر کسی جگہ کوئی ایک شخص جمائی لے گاتو لازماً اس کے ارد گرد بیٹھے ہوئے افراد بھی جمائیاں لیں گے ، اور یہ ایک خوبصورت منظر ہو گا ۔ لیکن اس سے پہلے کہ آپ بھی اس تحریر کو پڑھتے پڑھتے جمائیاں لینے لگیں ہمیں اصل مقصد کی طرف لوٹ جانا چاہیے تاکہ آپکو بوریت سے بچایا جا سکے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ پر اسرار تسلسل کن وجوہات اور ذہنی تحریک کے باعث پیدا ہوتا ہے ؟اس سوال کا جواب پانے کیلئے سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہوگا کہ کیا جمائی جسمانی تحریک ہے ۔ کیونکہ جمائی لینا ایک غیر ارادی اور جبری کار وائی ہے ۔ اس عمل کے دوران ہم غیر ارادی طور پر منہ کھولتے ہیں اور گہرا سانس اندر کھنچتے ہیں ۔ اس حقیقت سے تو ہم اچھی طرح واقف ہیں کہ ہم جمائیاں غیر ارادی طور پر لیتے ہیں یہی نہیں جمائیاں تو ہم پیدا ہونے سے پہلے ماں کے پیٹ میں بھی لیتے ہیں ۔ جمائیوں کے آنے کی وجہ جاننے کیلئے بالٹی مورکاؤنٹی میر ی لینڈ یونیورسٹی کے نیورولوجسٹ رابرٹ پروون کی جانب سے ایک تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی ہے ۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گیارہ ہفتے کے جینین کو بھی ماں کے پیٹ میں جمائی لیتے دیکھا گیا ہے ۔انکا کہنا ہے کہ جمائی کا اوسط دورانیہ تقریباًچھ سیکنڈ پر مشتمل ہوتا ہے ۔جمائی کا عمل عام طور پر آرام کرنے اور غنودگی کے ساتھ منسلک ہوتا ہے ۔ جمائی لیتے وقت آپ کے دل کی دھڑکن30فیصد بڑھ جاتی ہے ۔ علاوہ ازیں جمائی لینا انگیختگی اور جنسی انگیختگی کا اشارہ بھی ہوتا ہے ۔جمائی لیتے وقت جسم کے مختلف حصے مختلف کاروائیاں سر انجام دینے لگتے ہیں۔ سب سے پہلے آپ جمائی لینے کیلئے پورا منہ کھولتے ہیں جس کے نتیجے میں پورا جبڑہ نیچے چلا جاتا ہے اور آپ کے پھیپھڑے آکسیجن سے بھرنے کیلئے ذیادہ سے ذیادہ ہوا اندر کی جانب کھینچتے ہیں جس سے آپ کا پیٹ پٹھوں کو اندر کی جانب خم دیتا ہے ۔جو ہوا آپ منہ کے زریعے اندر کھنیچتے ہیں وہ آپ کے پھیپھڑوں کو وسعت دیتی ہے اور ضرورت سے ذیادہ ہوا منہ کے راستے واپس باہر خارج ہو جاتی ہے ۔لیکن آخر وہ کون سے وجوہ ہیں جو جمائی لینے پر اکساتی ہیں ؟اس سوال کا جواب پانے کیلئے ماہرین کی جانب سے چار نظر یات پیش کیے گئے ہیں۔پہلا جسمانی ،دوسراارتقائی ، تیسرادماغی راحت اور چوتھاتھکاوٹ ، غنودگی ،بوریت ہیں۔ویسے عام خیال کے مطابق جمائیاں غنودگی یا بوریت کی صورت میں خود بخود آنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ سائنسدان جمائیوں کے بارے میں مزید تحقیق کر رہے ہیں تاکہ ذیادہ سے ذیادہ معلومات اکھٹی کی جاسکیں ۔ واضح رہے اس موضو ع پر بہت کم تحقیق کی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم جمائیوں کے متعلق بہت کم معلومات رکھتے ہیں ۔ لیکن اب امید ہے کہ ہم مستقبل قریب میں اس ذہنی تحریک کے متعلق ذیادہ سے ذیادہ جان سکیں گے ۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
کن کن شہروں میں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کردی
-
پاکستان کو 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والا نیا بولر مل گیا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مزید کمی کردی
-
نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا: امریکی ادارے نے بتادیا
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
موبائل بیلنس کی میعاد 1 ماہ سے بڑھا کر 180 دن مقرر، پی ٹی اے نے صارفین کو بڑی سہولت دے دی
-
صنف تبدیل کرنے والی انایا بنگر کو خواتین کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی
-
بل گیٹس کی مستقبل کے بارے میں تشویشناک پیشگوئی
-
یو اے ای ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے اہم خبر
-
ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
پانچ ہزار روپے کے ایک نوٹ کی تیاری پر کتنے روپے خرچ ہوتے ہیں؟



















































