ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

والدین کے اپنے بچوں کو سکھائے گئے چند جھوٹ

datetime 18  ستمبر‬‮  2016 |

جیسے کہ ہم سب جانتے ہیں بچپن سے جڑی یادیں ہر انسان کے لئے ہمیشہ بہت خاص ہوتی ہیں۔بچپن کے کھیل ،مذاق،مہم جوئی ،خوشگوار یادوں کے ساتھ ساتھ چند چیزوں کے بارے میں غلط فہمیاں بھی ہمارے یادوں کا حصہ رہتی ہیں۔ہمارے ہاں مشرق میں والدین اپنے بچوں کو بچپن چند چیزوں کے بارے میں جھوٹے قصے اور باتیں سنا کر خوفزدہ اور کبھی خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اگرچہ والدین کا بچوں کے ساتھ ایسارویہ منفی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے تاہم اب یہ جھوٹ تقریباًہمارے کلچر کا حصہ ہی بن چکے ہیں ان میں سے چند ایک آپ کے پیش نظر ہیں۔ہمارے بڑے اکثر بچوں سے کہتے ہیں پھلوں کے بیج کھائے نہ تو پیٹ میں درخت اگ جائے گا،یا اگر تم نے کسی کو منہ چڑایا تو ہمیشہ کے لئے ویسا ہی ہوجائے گا،اگر تم نے سر سے جوئیں نہ نکلوائیں تو وہ تمھیں رات کو سمندر میں پھینک آئیں گی،یاجب کوئی مر جاتا ہے تو وہ ستارہ بن کر آسمان پر جگمگاتا ہے، جب بہت گرمی پڑتی ہے تو بچوں سے کہہ دیا جاتا ہے آج سورج میاں ناراض ہیں،جب بارش ہو تو کہا جاتا ہے آج بادل رو رہے ہیں، یا پھر یہ کہ اگر کھانا ضائع کیا تو وہ کوکروچ بن کے پیٹ میں چلا جائے گا ۔علاوہ ازیں جب گھر میں کوئی ننھا بھائی بہن آتا ہے تو عام طور پر بڑے بچے سے کہا جاتا ہے کہ جنت کی پریاں رات کے وقت ننھے کو ماما کی گود میں رکھ چلی گئیں ۔کبھی کبھار تو یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے جو بچے امی بابا کا کہنا نہیں مانتے انکے لئے پولیس انکل نے چھوٹی جیل بنا رکھی ہے جس سے وہ باہر بھی نہیں آنے دیتے ،اور تو اور اگر رات کو نیند نہ آنے کی وجہ سے بچے نہ سوئیں تو کہا جاتا ہے جلدی سے سو جاﺅ ورنہ ’بڈھا بابا‘ اٹھا کے لے جائے گا۔اب آپ بتائیں آپ اپنے بچوں بھتیجے بھتیجیوں کے ساتھ ان میں سے کتنے جھوٹ بول چکے ہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…