ہفتہ‬‮ ، 28 مارچ‬‮ 2026 

اہم اسلامی ملک میں عوام نے بغاوت کردی،پارلیمان کی عمارتوں میں داخل،سیکورٹی فورسزکاکارروائی سے گریز

datetime 1  مئی‬‮  2016 |

بغداد(نیوزڈیسک)عراقی وزیراعظم نے گرین زون کے گرد سخت سکیورٹی حصار کو توڑنے والے مظاہرین کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا ، ہزاروں مظاہرین پارلیمان کی عمارت پردھاوا بولتے ہوئے اہم حکومتی عمارتوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔عراقی شیعہ مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامی نئی کابینہ کی تشکیل پر تعطل کے خلاف ہفتے کی رات ہی بغداد میں پارلیمان کی عمارت کی طرف جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ان مظاہرین کا کہنا تھا کہ نئی کابینہ میں تمام نسلی اورمذہبی اکائیوں کو برابر کی نمائندگی دی جائے۔ طاقتور شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے ان مظاہرین کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔بغداد میں اس تازہ پیش رفت کے نتیجے میں ہنگامی صورت حال کا نفاذ کر دیا گیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔العبادی نے کہا کہ پارلیمان کی عمارت کے باہر دھرنا دینے والے اور گرین زون میں داخل ہونے والے مظاہرین فوری طور پر واپس چلے جائیں،العبادی نے وزارت داخلہ سے کہا کہ وہ ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے، جنہوں نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا ہے اور حکومتی عمارتوں میں لوٹ مار کرنے کی کوشش کی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اتوار کے دن بھی سینکڑوں مظاہرین بغداد کی سڑکوں پر جمع ہوئے۔اتوار کے دن مظاہرین اہم حکومتی دفاتر کے گرد کھڑی بڑی بڑی کنکریٹ کی دیواروں کو بھی گرا دیا۔ تاہم بغداد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مظاہرین کے اہم سکیورٹی زون میں داخل ہونے کے بعد بھی صورت حال کشیدہ نہیں ہوئی ۔یہ مظاہرین اہم حکومتی عمارتوں کے گرد گھومتے ہوئے موبائل فونز اپنی تصویریں بناتے رہے اور تشدد کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں کیا گیا ۔انہی مظاہرین میں شامل بتیس سالہ یوسف الاسدی نے بتایا کہ وہ صدام حسین کے دور میں اس ہائی سکیورٹی زون میں اس وقت آیا تھا، جب وہ اسکول میں پڑھتا تھا۔ اسدی کے بقول اس کے بعد پہلی مرتبہ اسے موقع ملا ہے کہ وہ اس حساس مقام تک پہنچ سکے۔ اس نے مزید کہا کہ بغداد بھر میں یہ سب سے زیادہ خوبصورت علاقہ ہے۔ یہاں سب کو آنے کی اجازت ہونا چاہیے۔وزیر اعظم العبادی کی طرف سے احکامات جاری کیے جانے کے باوجود سکیورٹی فورسز ایسے مظاہرین کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے رہی ہیں، جو اس وقت گرین زون میں موجود ہیں مقتدیٰ الصدر اور ان کے حامیوں کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی اصلاحات کو ممکن بنایا جائے، جس کے تحت شیعہ، کرد اورسنی گروہوں کو حکومت میں برابر کی نمائندگی حاصل ہو سکے۔مبصرین کا کہنا تھا کہ العبادی کو ملک میں قیام امن کی خاطر تمام گروپوں کو نمائندگی دینا ہو گی۔ کہا جاتا ہے کہ اصلاحات کے نہ ہونے کے نتیجے میں عراق میں بدعنوانی، اقربا پروری اور نسلی تفریق میں اضافہ ہوا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ پارلیمان کے عمارت کے باہر اپنا دھرنا جاری رکھیں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…