بغداد(نیوزڈیسک)عراقی وزیراعظم نے گرین زون کے گرد سخت سکیورٹی حصار کو توڑنے والے مظاہرین کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا ، ہزاروں مظاہرین پارلیمان کی عمارت پردھاوا بولتے ہوئے اہم حکومتی عمارتوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔عراقی شیعہ مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامی نئی کابینہ کی تشکیل پر تعطل کے خلاف ہفتے کی رات ہی بغداد میں پارلیمان کی عمارت کی طرف جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ان مظاہرین کا کہنا تھا کہ نئی کابینہ میں تمام نسلی اورمذہبی اکائیوں کو برابر کی نمائندگی دی جائے۔ طاقتور شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے ان مظاہرین کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔بغداد میں اس تازہ پیش رفت کے نتیجے میں ہنگامی صورت حال کا نفاذ کر دیا گیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔العبادی نے کہا کہ پارلیمان کی عمارت کے باہر دھرنا دینے والے اور گرین زون میں داخل ہونے والے مظاہرین فوری طور پر واپس چلے جائیں،العبادی نے وزارت داخلہ سے کہا کہ وہ ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے، جنہوں نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا ہے اور حکومتی عمارتوں میں لوٹ مار کرنے کی کوشش کی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اتوار کے دن بھی سینکڑوں مظاہرین بغداد کی سڑکوں پر جمع ہوئے۔اتوار کے دن مظاہرین اہم حکومتی دفاتر کے گرد کھڑی بڑی بڑی کنکریٹ کی دیواروں کو بھی گرا دیا۔ تاہم بغداد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مظاہرین کے اہم سکیورٹی زون میں داخل ہونے کے بعد بھی صورت حال کشیدہ نہیں ہوئی ۔یہ مظاہرین اہم حکومتی عمارتوں کے گرد گھومتے ہوئے موبائل فونز اپنی تصویریں بناتے رہے اور تشدد کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں کیا گیا ۔انہی مظاہرین میں شامل بتیس سالہ یوسف الاسدی نے بتایا کہ وہ صدام حسین کے دور میں اس ہائی سکیورٹی زون میں اس وقت آیا تھا، جب وہ اسکول میں پڑھتا تھا۔ اسدی کے بقول اس کے بعد پہلی مرتبہ اسے موقع ملا ہے کہ وہ اس حساس مقام تک پہنچ سکے۔ اس نے مزید کہا کہ بغداد بھر میں یہ سب سے زیادہ خوبصورت علاقہ ہے۔ یہاں سب کو آنے کی اجازت ہونا چاہیے۔وزیر اعظم العبادی کی طرف سے احکامات جاری کیے جانے کے باوجود سکیورٹی فورسز ایسے مظاہرین کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے رہی ہیں، جو اس وقت گرین زون میں موجود ہیں مقتدیٰ الصدر اور ان کے حامیوں کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی اصلاحات کو ممکن بنایا جائے، جس کے تحت شیعہ، کرد اورسنی گروہوں کو حکومت میں برابر کی نمائندگی حاصل ہو سکے۔مبصرین کا کہنا تھا کہ العبادی کو ملک میں قیام امن کی خاطر تمام گروپوں کو نمائندگی دینا ہو گی۔ کہا جاتا ہے کہ اصلاحات کے نہ ہونے کے نتیجے میں عراق میں بدعنوانی، اقربا پروری اور نسلی تفریق میں اضافہ ہوا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ پارلیمان کے عمارت کے باہر اپنا دھرنا جاری رکھیں گے
اہم اسلامی ملک میں عوام نے بغاوت کردی،پارلیمان کی عمارتوں میں داخل،سیکورٹی فورسزکاکارروائی سے گریز
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)
-
عید میلاد النبیؐ کی چھٹی کس دن ہوگی؟ بڑی خبر آگئی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
ایجوکیشن اتھارٹی کاموسمِ گرما کی تعطیلات بارے نجی تعلیمی اداروں کے لیے سخت حکم نامہ جاری
-
بھارت کے معروف اداکار چل بسے
-
بجلی کے ہر یونٹ پر 5 روپے سیلز ٹیکس نافذ، اطلاق کن صارفین پرہوگا؟
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، وزارت خزانہ نے نئی وضاحت جاری کردی
-
لاہور؛ اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی اور تھانہ معطلی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
-
عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے دوسری شادی کر لی؟
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور آزاد کشمیر میں بارشوں کی پیشگوئی، ادارے الرٹ
-
سعودی عرب کے ورک ویزے کے خواہشمند پاکستانی ہوشیار ہوجائیں !
-
سولر صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
پنجاب حکومت نے گندم کی ریلیز پرائس مقرر کر دی



















































