ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

دوستوں کا سہارا انسان کو مسائل اور تکالیف برداشت کرنے میں مدد گارثابت ہوتا ہے‘ تحقیق

datetime 30  اپریل‬‮  2016 |

لاہور (نیوز ڈیسک) سائنس نے ثابت کردیا ہے کہ بہت سارے دوست زندگی کی پریشانیوں اور اصل تکلیف برداشت کرنے میں مدد دیتے ہیں اور اس کی وجہ نفسیاتی نہیں بلکہ طبعی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ دوستوں کے وسیع حلقے میں وقت گزارنے سے جسم قدرتی طور پر ایک ہارمون اینڈورفن زیادہ خارج کرتا ہے جو فطری طور پر درد کی شدت کو کم کرتے ہیں۔ دوسری جانب اینڈورفن درد اور لذت دونوں میں ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یہ بات انسانوں اور بعض جانوروں پر تحقیق میں بھی ثابت ہوچکی ہے۔اس کا ایک نظریہ سماجی وابستگی کا اوپوئڈ نظریہ ہے جو بتاتا ہے کہ سماجی رابطے اور دوستیاں اینڈورفن کو بڑھا کر دماغ میں مثبت سوچ کو پروان چڑھاتی ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تجرباتی نفسیات کی خاتون ماہرکے مطابق ان کے نتائج بہت دلچسپ ہیں کیونکہ ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی عوارض میں مبتلا افراد میں اینڈورفن کا نظام متاثر ہوجاتا ہے اور وہ مزید تنا کے شکار ہوتے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ یہی وجہ ہے کہ اداسی اور ڈپریشن کے شکار افراد دوستوں سے بھی ملنا جلنا چھوڑ دیتے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل ایک اور مطالعے سے پتا لگا تھا کہ جو لوگ دوستوں میں مناسب وقت گزارتے ہیں اس کا اثر عین کسی درد کم کرنے والی (پین کلر)دوا کی طرح ہی ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…