اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

یہ عام سی سبزیاں کھائیں، اور خطرناک بیماریاں دور بھگائیں

datetime 26  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)ماہرین کا خیال ہے کہ کم گوشت کھانے اور پھل و سبزیوں کے زیادہ استعمال سے قبل از موت سے بچا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پھل و سبزیوں کا استعمال ماحول کو بہتر بنانے کے لیے بھی مفید ہے۔امریکا کی نیشنل اکیڈمی برائے سائنسز ز کی ایک ریسرچ میں پہلی مرتبہ یہ واضح کیا گیا ہے کہ انسانی صحت اور زمین کے ماحول کو بہتر کرنے کے لیے گوشت کم کھانا چاہیے اور پھل و سبزی کو روزانہ کی خوراک میں زیادہ شامل کرنا نہایت اہم ہے۔ ریسرچ کے مطابق اگر خوراک میں گوشت کم کرنے کے ساتھ ساتھ پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال عام ہو جاتا ہے تو سن 2050 تک کئی لاکھ انسان قبل از وقت مرنے سے بچ سکیں گے۔ اِس لائف اسٹائل سے ہیلتھ کیئر کی مد میں اربوں ڈالر بھی بچائے جا سکتے ہیں۔
ماہرین طب کا کہنا ہے کہ بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے کینسر کو شکست دی جا سکتی ہے۔ امراض قلب کے بعد سب سے زیادہ اموات سرطان کے سبب ہوتی ہیں تاہم بہتر طرز زندگی اختیار کرنے سے کینسر کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ (16.02.2016)
متوازن خوراک کو انسانی صحت میں بے شمار خرابیوں کا سبب قرار دینے کے علاوہ اِسے عالمی سطح پر ہیلتھ سیکٹر پر ایک بڑا بوجھ بھی قرار دیا گیا ہے۔ اِس ریسرچ کو ”فیوچر آف ف±وڈ“ کا نام دیا گیا ہے اور یہ آکسفورڈ مارٹن پروگرام کے تحت مکمل کی گئی۔ اس ریسرچ کے بارے میں یہ رپورٹ مارکو اسپرنگ مان نے مرتب کی ہے۔ اسپرنگ مان کے مطابق کرہ? ارض پر خوراک تیار کرنے کا نظام ماحول کو نقصان دینے والی سبز مکانی گیسوں کے کل حجم کا ایک چوتھائی پیدا کرتی ہیں۔
مارکو اسپرنگ مان کا کہنا ہے کہ جو انسانی خوراک کھائی جاتی ہے وہی عمومی صحت اور گلوبل زمینی ماحول کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی نے استعمال میں لائی گئی خوراک کے چار ماڈل بنائے ہیں۔ پہلے ماڈل میں خوراک کھانے والے وہ شامل ہیں جو خوراک کے بنیادی رہنما اصول استعمال کرتے ہوئے پھل اور سبزی کے ساتھ ساتھ ایک خاص مقدار میں سرخ گوشت کا استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے ماڈل میں وہ لوگ شامل ہیں جو بھرپور کیلوریز والی خوراک تو ضرور کھاتے ہیں لیکن شکر پر بھرپور کنٹرول کیے ہوئے ہیں۔ تیسرے میں وہ شامل ہیں جو کلی طور پر سبزی خور ہیں لیکن مچھلی اور انڈے کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ چوتھے ماڈل میں وہ شامل ہیں جو دودھ، دہی اور مکھن کے علاوہ انڈے اور ہر قسم کے گوشت مچھلی سمیت سے اجتناب کرتے ہیں۔ چو تھے ماڈل کو ویگان فوڈ کہا جاتا ہے۔
امریکن نیشنل اکیڈمی برائے سائنسز کی ریسرچ رپورٹ میں تلقین کی گئی ہے کہ خوراک کے لیے مقرر کیے گئے عالمی رہنما اصولوں پر اگر پوری طرح عمل ہو جائے تو سن 2050 تک 51 لاکھ انسان موت کے منہ میں قبل از وقت جانے سے بچ سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہر قسم کے گوشت سے اجتناب کرنے والے اور پھل سبزیاں استعمال کرنے والے 81 لاکھ انسان بھی زیادہ صحت مندانہ زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ ان ہدایات کی روشنی میں اگر 29 فیصد لوگ زندگی بسر کرنا شروع کر دیں تو سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں 63 فیصد اور ویگان خوراک مقبول ہونے پر 70 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ مختلف ملکوں کو 700 ارب سے ایک ہزار ارب ڈالر کی بچت یقینی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…