ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

زلزلے کے شدید جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے

datetime 25  اپریل‬‮  2016 |

پشاور،شانگلہ،گلگت، چلاس(نیوزڈیسک)خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے ،ریکٹر سکیل پر شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی۔تفصیلات کے مطابق پشاور، مانسہرہ ، سوات، چترال، شانگلہ سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر متعدد علاقوں اور گلگت میںشدید زلزلے کے جھٹکوں سے لرز اٹھے۔ لوگ خوف کے مارے گھروں سے باہر نکل آئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق سوات، مالاکنڈ، شانگلہ، لوئردیر سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں اورگلگت بلتستان کے علاقوں چلاس اور غذر میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ رات گئے آنے والے زلزلے سے لوگ کلمہ طیبہ کا وِرد کرتے گھروں سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کی شدت پانچ اعشاریہ آٹھ جبکہ گہرائی 116 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ بتایا گیا ہے۔آن لائن کے مطابق خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند ماہ کے دوران 4 سے 6 کے درمیان کی شدت کے متعدد بار زلزلے آچکے ہیں۔26 دسمبر 2015 کو افغانستان، تاجکستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں 6.2 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس سے اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں 29 افراد زخمی ہوئے تھے۔6 ماہ قبل بھی اکتوبر 2015 میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں 7.5 شدت کے زلزلہ کے نتیجے میں 220 افراد ہلاک اور 1000 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔اس زلزلے کا مرکز افغانستان میں 212.5 کلو میٹر زیر زمین تھا، پاکستان میں اس زلزلے سے سب سے زیادہ جانی نقصان مالاکنڈ ڈویڑن میں ہوا تھا جہاں 137 افراد کے ہلاک ہوئے تھے۔اس سے قبل پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقے میں اپریل 2013 میں آنے والے شدید زلزلے سے ماشکیل میں 40 افراد ہلاک ہوئے تھے۔اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.8 ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ اس کا مرکز ایران کا سرحدی علاقہ تھا۔اس سے پہلے 8 اکتوبر 2005 کو 7.6 شدت کے زلزلے نے کشمیر اور شمالی علاقوں میں تباہی پھیلا دی تھی۔زلزلے کے نتیجے میں 80 ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت ہوئی تھی جبکہ 2 لاکھ سے زائد افراد زخمی اور ڈھائی لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…