ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

آرمی اور رینجرز کے آپریشنز مسائل کا وقتی حل ہیں، مستقل حل کیلئے ہمیں اچھی حکمرانی لانی ہو گی ٗمصطفی کمال کاجلسے سے خطاب

datetime 24  اپریل‬‮  2016 |

کراچی (نیوزڈیسک) پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ آرمی اور رینجرز کے آپریشنز مسائل کا وقتی حل ہیں، مستقل حل کیلئے ہمیں اچھی حکمرانی لانی ہو گی ٗایم این ایز، ایم پی ایز کی عوامی اختیارات پر اجارہ داری ختم کی جائے ٗشہریوں کو گلی محلے کے معاملات میں بااختیار بنایا جائے ٗ عوام کو اختیارات نہ دیئے گئے تو آپریشنز کے نتیجے میں کچھ دیر کیلئے قائم ہونے والا امن پھر ختم ہو گا ٗآئندہ چند روز میں اپنی جماعت کا جامع منشور پیش کریں گے۔ اتوار کو باغ جناح میں پاک سرزمین پارٹی کے پہلے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سید مصطفی کمال نے کہا کہ ہم نے کم ترین مدت میں ایک نئی سیاسی جماعت کو منظم کر کے ایک نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا ہے ٗ یہ بھی ایک ورلڈ ریکارڈ ہے کہ چند روزہ جماعت کے پہلے جلسے میں کروڑوں کا مجمع موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج کے دن کو تاریخ سنہری دن کے طور پر یاد رکھے گی۔ لوگ جوق در جوق ہماری جماعت میں داخل ہو رہے ہیں، ہم آئندہ چند روز میں اپنی جماعت کا جامع منشور پیش کریں گے تاہم ہمارے منشور کے چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں کہ ہمیں ایسی جمہوریت نہیں چاہئے جو صرف اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے ایوانوں میں ہو، ہمیں وہ جمہوریت چاہئے جو عوام کو بااختیار بنائے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں ایسی جمہوریت چاہئے جو عوام کو تمام اختیارات دے۔ اگر عوام کو پینے کا صاف پانی نہ ملے، اگر عوام کے اختیار میں صحت، تعلیم اور سیوریج تک کا نطام نہ ہو تو ہمیں ایسی جمہوریت نہیں چاہئے۔سید مصطفی کمال نے کہاکہ اگر ریاست عام آدمی کو پینے کا صاف پانی نہیں فراہم کر سکتی تو پھر وہ عوام سے حب الوطنی کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایم این ایز، ایم پی ایز کی عوامی اختیارات پر اجارہ داری ختم کی جائے۔ شہریوں کو گلی محلے کے معاملات میں بااختیار بنایا جائے۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ آرمی اور رینجرز کے آپریشنز مسائل کا وقتی حل ہیں، مستقل حل کیلئے ہمیں اچھی حکمرانی لانی ہو گی، یونین کونسلز کو بااختیار بنانا ہو گا۔ اگر عوام کو اختیارات نہ دیئے گئے تو آپریشنز کے نتیجے میں کچھ دیر کیلئے قائم ہونے والا امن پھر ختم ہو گا۔ گلی محلے کو اختیار دیئے بغیر، مقامی حکومتوں کو بااختیار بنائے بغیر جمہوریت کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب تک گلی محلے کے لوگ خود بااختیار نہیں ہونگے تب تک کرپشن ختم نہیں ہو گی۔ نیب کرپشن ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہاکہ لوگوں کے پاس یونین کونسلز کے عہدیداران کے احتساب کی طاقت ہو گی تو کسی نیب کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ عوام کا پیسہ یونین کونسلز کے پاس ہونا چاہئے تاکہ عوام ان پر نظر رکھ سکیں اور ان کے کرپشن کرنے پر ان کا احتساب کر سکیں ٗ اگر یہی نظام رہا تو نئے صوبے بنانے کا بھی کوئی فائدہ نہ ہو گا۔انہوں نے کہاکہ سید مصطفی کمال نے کہا کہ کرپشن ایسے رکنے والی نہیں، ہمارے بتائے طریقے سے رکے گی۔ مصطفی کمال نے کہا کہ کرپشن اور نیب کا ڈرامہ 60 سالوں سے چلتا آ رہا ہے تاہم آج تک کرپشن ختم نہیں ہوئی، یونین کونسلز کے پاس اختیارات ہوں گے تو عوام خود ہی نیب کا رول ادا کرینگے انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کا نظام جمہوریت کی پہلی سیڑھی ہے، معاملات کو حل کرنا ہے تو مقامی لوگوں کو اختیارات دینا ہوں گے، یہی نیشنل ایجنڈا ہے۔سید مصطفی کمال نے کراچی کے حالات کا ذمہ دار روایتی سیاسین جماعتوں کوٹھہراتے ہوئے کہا کہ کسی جماعت نے یہاں کے لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کسی نے را کے ایجنٹ بنانے والوں کے ہاتھ نہیں پکڑے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ہم کراچی میں نئی تہذیب کی بنیاد ڈالیں گے ٗیہاں تعلیم یافتہ لوگ ہوں گے، ہم اس شہر کو را کے ایجنٹوں کو پا کریں گے۔ مصطفی کمال نے کہاکہ ہم اس شہر کو لسانی اور فرقہ وارانہ تفریق سے پاک کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں لوگ ہار جیت کے بعد ایک دوسرے کو گلے لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس شہر کو منی پاکستان بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقت قریب ہے جب یہ شہر را کے ایجنٹوں کا نہیں بلکہ محب وطن لوگوں کا شہر ہو گا ٗ ہمیں بہت لمبا سفر طے کرنا ہے، ابھی شروعات ہے، گھروں میں بیٹھنے والے بھی وطن پرستی کے قافلے میں شامل ہو جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…