بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

ایک عدد ہیکر درکار ہے ، چاہئیے کسے؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 19  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کی ویب سائٹ ہیک کرنے کے لیے ہیکرز درکار۔نہیں آپ یہ جملہ غلط نہیں پڑھ رہے۔ امریکی حکومت سائیبر حملوں کے خلاف اپنے دفاع کی صلاحیت معلوم کرنا چاہتی ہے اور اسی لیے یہ اشتہار دیا گیا ہے۔اس قسم کے اشتہارات یا ہیکرز کو دعوت نامے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل گوگل، فیس بک، مائیکرو سوفٹ اور یاہو ’بگ باو¿نٹی پروگرام‘ کے تحت پہلے ہی ہیکرز کو مدعو کر چکے ہیں تاکہ وہ کسی قسم کے بگ یا کسی مسئلے کی نشاندہی کر سکیں۔اگر ہیکرز کسی بڑے مسئلے یا کمزوری کی نشاندہی کرتے ہیں تو ان کو معاوضہ دیا جاتا ہے۔’ہیک دا پینٹاگون‘ سکیم کا آغاز آج یعنی پیر سے ہوا ہے اور مئی 12 تک جاری رہے گا۔ہیکرز کے لیے جو فارم ویب سائٹ پر ڈالا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے ’اگر آپ کو ویب سائٹ کی سکیورٹی کے حوالے سے خامیوں یا کمزوریوں کا معلوم ہے تو ہم جاننا چاہیں گے۔‘ایک سینیئر اہلکار نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں ہیکرز اس میں حصہ لیں گے۔پینٹاگون کا اپنا ایک اندرونی نظام ہے جو سکیورٹی کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے اور ان کو دور کرتا ہے۔ لیکن اس بار پینٹاگون وزارت دفاع سے باہر کے لوگوں سے جاننا چاہتی ہے کہ کیا کمزوریاں ہیں۔سکیورٹی ریسرچرز کئی بار کہہ چکے ہیں کہ بڑی ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کی طرح حکومت کو بھی کمزوریاں معلوم کرنے کے لیے ’بگ باو¿نٹی پروگرام‘ شروع کرنا چاہیے۔اطلاعات کے مطابق فیس بک نے یہ پروگرام 2011 میں شروع کیا تھا اور اس نے اب تک ہیکرز کو کمزوریوں کی نشاندہی کرنے پر 30 لاکھ ڈالر دیے ہیں۔اگر کمزوریوں کی نشاندہی کرنے پر پینٹاگون معاوضہ دیتا ہے تو یہ پہلی بار ہو گا دنیا میں کسی بھی حکومت نے اس قسم کا پروگرام متعارف کرایا ہو۔
پینٹاگون کی شرط صرف یہ ہے کہ ہیکرز امریکی شہری ہوں اور ان کو پہلے اپنے آپ کو رجسٹر کرانا ہو گا جس کے بعد ان کے بارے میں جانکاری کی جائے گی اور پھر ان کو کمپیوٹر سسٹم میں داخل ہونے دیا جائے گا



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…