اسلام آباد (نیوزڈیسک)گوگل نے خاموشی سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا ایک مقبول ترین فیچر اپنی موبائل ایپ پر ٹیسٹ کرنا شروع کردیا۔ایک ویب سائٹ میش ایبل کی رپورٹ کے مطابق فیس بک اور ٹوئٹر کے ٹرینڈنگ ٹاپکس کی طرح گوگل نے بھی اپنی سرچ بار میں سرچ ٹرینڈنگ ٹاپکس کا فیچر متعارف کرایا ہے۔یہ فیچر گوگل سرچ بار میں ایک لفظ ٹائپ کرنے کے بعد کام شروع کردیتا ہے اور صارف کے سامنے ڈراپ ڈاﺅن مینیو میں مقبول ترین ٹرینڈنگ سرچز کی فہرست آجاتی ہے۔اس میں سے کسی کا انتخاب کرنے پر صارف کے سامنے اس حوالے سے مضامین کا مجموعہ آجاتا ہے۔یہ فیچر ابھی محدود تعداد میں لوگوں کو دستیاب ہوا ہے اور وہ بھی کم وقت کے لیے، جس کے بعد یہ غائب ہوجاتا ہے۔گوگل نے اس حوالے سے بات کرنے سے انکار کیا ہے، مگر یہ بالکل ممکن ہے کہ سوشل میڈیا سائٹس میں اس کی مقبولیت دیکھتے ہوئے اسے آزما کر دیکھا جارہا ہو۔گوگل کی جانب سے اس فیچر کو اپنانا حیران کن بھی نہیں کیونکہ فیس بک یا ٹوئٹر کی جانب سے صارفین کو اپنی ایپس میں مصروف رکھنے کے لیے نت نئے طریقے آزمائے جاتے ہیں۔اسی طرح گوگل بھی اپنی بہترین سرچز کو ہائی لائٹ کرنا چاہتا ہے تاکہ لوگ زیادہ دیر تک اس کے سرچ انجن پر موجود رہیں۔
گوگل نے فیس بک اور ٹوئٹر نے نیا فیچر متعارف کرا دیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ٹرمپ ایران سے معاہدے کیلئے پاکستان آنے کے خواہش مند ہیں مگر انہوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے: حامد میر...
-
شین وارن کی موت کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ بیٹے نے 4 سال بعد نام بتا دیا
-
بجلی صارفین ہوشیار! شام 5 سے رات 1 بجے کے دوران لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول آگیا
-
لائیو شو میں غیر اخلاقی حرکت پر فضا علی کا ردعمل سامنے آگیا
-
گریٹ گیم
-
پاکستان کے اہم علاقے سے سونانکل آیا ، مقامی آبادی کی بڑی تعداد جمع ہو گئی
-
درجنوں سیاسی خاندان تحریک انصاف میں شامل
-
اختیارات کے ناجائز استعمال اور خاتون سے ناجائز تعلقات قائم کرنے پر ڈی ایس پی نوکری سے فارغ
-
ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
-
مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ
-
پہلے خریدیں بعد میں پے کریں ، مشہور کمپنی علی بابا کا پاکستان کیلئے اہم اعلان ، لائسنس جاری ہو گیا
-
توانائی کے حوالے سے پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری
-
معروف ریسٹورنٹ سے مضرِ صحت گوشت برآمد ، سیل کر دیا گیا
-
سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور ’’ہاؤسنگ کالونی‘‘ منظور، کون ہوگا اہل؟



















































