منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’سعودی خواتین ڈرائیور 70 دن بعد رہا‘

datetime 13  فروری‬‮  2015 |

سعودی عرب میں حکام نے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی دو خواتین کو 70 دن حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔

25 سالہ لجين الہذلول اور 33 سالہ میساء العمودی کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ اس پابندی کے خلاف مہم چلا رہی تھیں۔

ان کی حراست کے بعد ایسی خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سعودی عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں خواتین کا ڈرائیونگ کرنا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔

یہاں قانوناً خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی نہیں لیکن وہاں صرف مرد حضرات کو ہی ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جاتے ہیں اور اگر کوئی خاتون گاڑی چلائے تو اسے جرمانے اور قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سعودی خواتین ان پابندیوں کے خلاف سوشل میڈیا سمیت کئی پلیٹ فارموں پر مہم چلا رہی ہیں۔

لجين الہذلول کو گذشتہ برس یکم دسمبر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ متحدہ عرب امارات سے گاڑی چلاتی ہوئی سعودی عرب میں داخل ہوئی تھیں۔

سعودی خواتین ان پابندیوں کے خلاف سوشل میڈیا سمیت کئی پلیٹ فارموں پر مہم چلا رہی ہیں

میساء العمودی متحدہ عرب امارات میں مقیم سعودی صحافی ہیں اور انھیں اس وقت پکڑا گیا جب وہ سرحد پر لجین کی مدد کے لیے پہنچیں۔

دسمبر کے اواخر میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان خواتین کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کیا جا رہا ہے اور یہ فیصلہ ڈرائیونگ پر پابندی کی خلاف ورزی کے باعث نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ان کے تبصروں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

ان دونوں خواتین کے ٹوئٹر اکاؤنٹس کو بڑی تعداد میں لوگ فالو کرتے ہیں۔

ان کی رہائی ایسے وقت عمل میں آئی ہے جب برطانیہ کے شہزادہ چارلز نے ملک کے نئے بادشاہ شاہ سلمان سے ملاقات کی ہے۔

اس ملاقات میں برطانوی ولی عہد نے دس سال قید اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا پانے والے بلاگر رائف بداوی کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…