ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

’سعودی خواتین ڈرائیور 70 دن بعد رہا‘

datetime 13  فروری‬‮  2015 |

سعودی عرب میں حکام نے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی دو خواتین کو 70 دن حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔

25 سالہ لجين الہذلول اور 33 سالہ میساء العمودی کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ اس پابندی کے خلاف مہم چلا رہی تھیں۔

ان کی حراست کے بعد ایسی خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سعودی عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں خواتین کا ڈرائیونگ کرنا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔

یہاں قانوناً خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی نہیں لیکن وہاں صرف مرد حضرات کو ہی ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جاتے ہیں اور اگر کوئی خاتون گاڑی چلائے تو اسے جرمانے اور قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سعودی خواتین ان پابندیوں کے خلاف سوشل میڈیا سمیت کئی پلیٹ فارموں پر مہم چلا رہی ہیں۔

لجين الہذلول کو گذشتہ برس یکم دسمبر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ متحدہ عرب امارات سے گاڑی چلاتی ہوئی سعودی عرب میں داخل ہوئی تھیں۔

سعودی خواتین ان پابندیوں کے خلاف سوشل میڈیا سمیت کئی پلیٹ فارموں پر مہم چلا رہی ہیں

میساء العمودی متحدہ عرب امارات میں مقیم سعودی صحافی ہیں اور انھیں اس وقت پکڑا گیا جب وہ سرحد پر لجین کی مدد کے لیے پہنچیں۔

دسمبر کے اواخر میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان خواتین کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کیا جا رہا ہے اور یہ فیصلہ ڈرائیونگ پر پابندی کی خلاف ورزی کے باعث نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ان کے تبصروں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

ان دونوں خواتین کے ٹوئٹر اکاؤنٹس کو بڑی تعداد میں لوگ فالو کرتے ہیں۔

ان کی رہائی ایسے وقت عمل میں آئی ہے جب برطانیہ کے شہزادہ چارلز نے ملک کے نئے بادشاہ شاہ سلمان سے ملاقات کی ہے۔

اس ملاقات میں برطانوی ولی عہد نے دس سال قید اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا پانے والے بلاگر رائف بداوی کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…