ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

’سعودی خواتین ڈرائیور 70 دن بعد رہا‘

datetime 13  فروری‬‮  2015 |

سعودی عرب میں حکام نے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی دو خواتین کو 70 دن حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔

25 سالہ لجين الہذلول اور 33 سالہ میساء العمودی کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ اس پابندی کے خلاف مہم چلا رہی تھیں۔

ان کی حراست کے بعد ایسی خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سعودی عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں خواتین کا ڈرائیونگ کرنا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔

یہاں قانوناً خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی نہیں لیکن وہاں صرف مرد حضرات کو ہی ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جاتے ہیں اور اگر کوئی خاتون گاڑی چلائے تو اسے جرمانے اور قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سعودی خواتین ان پابندیوں کے خلاف سوشل میڈیا سمیت کئی پلیٹ فارموں پر مہم چلا رہی ہیں۔

لجين الہذلول کو گذشتہ برس یکم دسمبر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ متحدہ عرب امارات سے گاڑی چلاتی ہوئی سعودی عرب میں داخل ہوئی تھیں۔

سعودی خواتین ان پابندیوں کے خلاف سوشل میڈیا سمیت کئی پلیٹ فارموں پر مہم چلا رہی ہیں

میساء العمودی متحدہ عرب امارات میں مقیم سعودی صحافی ہیں اور انھیں اس وقت پکڑا گیا جب وہ سرحد پر لجین کی مدد کے لیے پہنچیں۔

دسمبر کے اواخر میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان خواتین کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کیا جا رہا ہے اور یہ فیصلہ ڈرائیونگ پر پابندی کی خلاف ورزی کے باعث نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ان کے تبصروں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

ان دونوں خواتین کے ٹوئٹر اکاؤنٹس کو بڑی تعداد میں لوگ فالو کرتے ہیں۔

ان کی رہائی ایسے وقت عمل میں آئی ہے جب برطانیہ کے شہزادہ چارلز نے ملک کے نئے بادشاہ شاہ سلمان سے ملاقات کی ہے۔

اس ملاقات میں برطانوی ولی عہد نے دس سال قید اور ایک ہزار کوڑوں کی سزا پانے والے بلاگر رائف بداوی کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…