لندن(نیوزڈیسک) پاناما لیکس ہنگامہ کے بعد برطانیہ سیاسی سرگرمیوں کا نیا مرکز بن گیا ، تین بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان معاملات طے کرنے کیلئے آئندہ ایک دو روز میں لندن میں موجود ہوں گے ، وزیر اعظم نواز شریف اور آصف زرداری کی ملاقات کا امکان ہے ، عمران خان اور چودھری نثار بھی آئندہ دنوں برطانیہ پہنچیں گے۔ لندن سیاسی سرگرمیوں کا نیا مرکز بننے جا رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق سیاسی جوڑ توڑ کی حکمت عملی کیلئے ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان آئندہ دنوں میں لندن میں موجود ہوں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف آج طبی معائنے کے لئے لندن پہنچیں گے جبکہ سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری پہلے سے ہی لندن میں موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان ملاقات کا قومی امکان موجود ہے۔ مشترکہ دوستوں کی جانب سے دونوں رہنماو¿ں کی ملاقات کیلئے کوششیں جاری ہیں جس کے لئے بیک ڈور رابطے کئے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے بعد کپتان بھی لندن پہنچ جائیں گے نہ صرف عمران خان اور وزیر داخلہ چودھری نثار بھی آئندہ دنوں برطانیہ میں ہوں گے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق عمران خان جمعرات 14 اپریل کو لندن پہنچیں گے جہاں وہ پاناما لیکس پر اہم ملاقاتیں کرینگے۔ اس دوران وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار بھی 16 اپریل کو لندن جا رہے ہیں۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اس رمضان 29 روزے ہونگے یا 30؟ پیشگوئی کر دی گئی
-
ہونڈا کا موٹرسائیکل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
شوال کا چاند کب نظر آنے کا امکان ہے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی
-
سرکاری ملازمین کے پنشن رولز میں اہم ترامیم ،نوٹیفکیشن جاری
-
پاکستان میں عیدالفطر پر کتنی چھٹیاں ملیں گی؟ اہم خبر آگئی
-
راولپنڈی، 12 سالہ بچے سے مسجد میں زیادتی، ملزمان نے ویڈیو بھی وائرل کردی
-
معروف یوٹیوبر او رپائلٹ نے میانمار سے لگژری طیارہ پاکستان میں ڈیلیور کر دیا، سوشل میڈیا پر ہنگامہ بر...
-
جوان افراد میں کینسر کی 6 اقسام تیزی سے پھیل رہی ہیں، تحقیق
-
رمضان میں ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کے لئے اہم خبر آگئی
-
ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان، انگلینڈ سے شکست کے بعد سیمی فائنل کیسے کھیل سکتا ہے؟
-
کن شہریوں کے پاسپورٹ بلاک کیے جارہے ہیں؟ بڑی خبر آگئی
-
شہریوں کیلیے بڑی خبر! قومی شناختی کارڈ میں اہم تبدیلیاں
-
فی تولہ سونا اور چاندی کی قیمتوں میں آج بھی اضافہ ریکارڈ
-
قومی شناختی کارڈ کے سیکیورٹی فیچر تبدیل کر دئیے گئے، تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری



















































