ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

عمران خان خطاب ختم،حکمت عملی سامنے لے آئے،حیرت انگیز اعلانات

datetime 10  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پاناما لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم نے قوم سے حقائق چھپائے ٗ نوازشریف کے پاس حکومت کر نے اخلاقی جواز نہیں بچا ٗ مستعفی ہو جائیں ٗ سابق صدر آصف علی زرداری کا سوئس بینکوں میں موجود پیسہ کون واپس لائے گا ٗقومی رہنما ہوں ٗ مجھے بھی پی ٹی وی پر موقف پیش کر نے کا موقع ملنا چاہیے تھا ٗ 24 اپریل کو پارٹی کے یوم تاسیس پرآئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرونگا ٗ جب تک آزاد احتساب کمیشن نہیں بنتا احتجاج جاری رہے گا ٗ لاکھوں لوگ راؤنڈ جائینگے ۔ اتوار کو اپنی رہائش گاہ بنی گالہ سے نجی ٹی وی چینلزپر قوم سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ملکوں میں پاناما لیکس پر طوفان آگیا ٗ جب قومیں حقوق کیلئے کھڑی نہیں ہوتیں تو تباہی کی طرف جاتی ہیں ٗایک زندہ معاشرہ ہی اپنے حقوق کیلئے کھڑا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئس لینڈ کے لوگوں نے باہر نکل کر اپنے حقوق کی جدوجہد کی ٗ وہاں کے عوام نے حکمرانوں کے احتساب کا فیصلہ کیا۔عمران خان نے کہاکہ حکومتی وزیروں کو پی ٹی وی پر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا تاہم انہیں موقع نہیں دیا گیا۔عمران خان نے کہا کہ میں قومی رہنما ہوں ٗ مجھے بھی پی ٹی وی پر مؤقف پیش کرنیکا موقع ملنا چاہئے تھا۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ملک کی تاریخ کا فیصلہ کن مرحلہ آگیا ہے ٗملک تباہی کی طرف جا رہا ہے ٗاب ہم رخ بدل سکتے ہیں۔انہوں نے پاناما لیکس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی مدد قرار دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے اللہ کو پاکستانیوں پر ترس آگیا ہے ٗ امپائر اللہ تعالیٰ ہیں اور ‘اللہ تعالیٰ نے پاکستانیوں کیلئے سو موٹو ایکشن لے لیا انہوں نے کہاکہ عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کا کام حکومت کے غلط کاموں پر آواز اٹھانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیا (ن )لیگ کا کام اپنی رہنما کی کرپشن بچاناہے؟۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہاکہ وزرا ء نے لوگوں سے جھوٹ بولا کہ شوکت خانم کا پیسہ واپس نہیں آیا ایسا تاثر دیا کہ شوکت خانم کا بڑا نقصان ہوگیاہے۔وزرا نے آخرت میں اللہ کو جواب دینا ہے یا نواز شریف کو؟انہوں نے کہا کہ شوکت خانم کے علاوہ غریب آدمی کیلئے کینسر کے علاج کا کوئی دوسرا ادارہ نہیں ٗعام آدمی بیچارہ علاج کیلئے کہاں جائے؟عمران خان نے کہا کہ کیمرون جب وزیراعظم نہیں تھے تب والد کی آف شور کمپنی میں پیسہ لگایا اس کے باوجود برطانیہ میں ان کے استعفے کا شور مچ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف پرپانچ بڑے الزام ہیں ٗ اگر ان میں سے ایک بھی کیمرون پر لگے تو جیل میں چلاجائے۔عمران خان نے کہاکہ وزیراعظم پر ٹیکس چوری، منی لانڈرنگ ، اثاثے چھپانے ٗکرپشن کے الزامات ہیں انہوں نے الزام عائد کیا کہ نواز شریف نے نے 2011میں 20کروڑ روپیہ اپنے بیٹے سے منگوایا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا ایک ارب روپے سے زائد کا گھر ہے ٗانہوں نے خود کہا تھاکہ سوئٹزر لینڈ میں پاکستان کے 200 ارب ڈالر رکھے ہیں۔انہوں نے وزیراعظم سے پاناما پیپرز کے بعد استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب کے پاس حکومت کرنیکا کوئی اخلاقی جواز نہیں بچا۔عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم خود ٹیکس نہیں دیتے، اور سمجھتے ہیں کہ لوگ انہیں ٹیکس دیں گے ٗنوازشریف اپنا رہن سہن دیکھیں اور ٹیکس ادائیگیاں دیکھیں۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہاکہ بھارت میں پاناما لیکس پرایف بی آر کے آڈیٹرز ٗوکیل بٹھائے گئے اور بھارتی وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی بنائی، برطانیہ میں وزیراعظم کے گھر کے باہر مظاہرہ ہورہا ہے اور اسی طرح کئی ممالک میں پاناما پیپرز کے بعداحتجاج شروع ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کے بعد وزیراعظم نے قوم سے خطاب کر کے مظلوم بننے کی کوشش کی انہوں نے قوم کو حقائق بیان کرنے کے بجائے غلط بیانی کی اس لئے پاناما لیکس کے معاملے پرریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن کوئی نہیں مانے گا اس لئے موجودہ چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے۔عمران خان نے کہا کہ پاناما لیکس پاکستان تحریک انصاف کی سازش نہیں، پاناما پیپرزمیں پاکستانی وزیراعظم کے بیٹوں کی کمپنیاں نکل آئی ہیں، سچ اور حق پر قومیں کھڑی نہیں ہوتیں تو تباہی کی طرف چلی جاتی ہیں۔عمران خان نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ ہزاروں میں ٹیکس ادا کرکے اربوں روپے کی جائیداد کیسے بنا دی گئی ٗ حکمرانوں کے اپنے پیسے باہر ہیں تو عوام سے ٹیکس کا مطالبہ کس منہ سے رکھتے ہیں اور سابق صدر آصف علی زرداری کا سوئس بینکوں میں موجود پیسہ کون واپس لائے گا، کوئی آپ سے کرپشن پرسوال کرے توآپ الٹا اسی پرالزام لگا دیتے ہیں آپ نے نجم سیٹھی کوالیکشن میں دھاندلی کے صلے میں پی سی بی کا چیئرمین بنایا اور کرپشن میں مدد کے صلے میں سعید احمد کو اسٹیٹ بینک میں اہم عہدے پر فائز کیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں امیراور غریب کے لئے علیحدہ قوانین انتہائی زیادتی ہے، پاکستان میں تمام افراد کے لئے مساوی قوانین ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ 24 اپریل کو پارٹی کے یوم تاسیس پرآئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے اور اس وقت تک دیکھیں گے کہ حکومت کیا اقدامات کرتی ہے جس تک آزاد احتساب کمیشن نہیں نبے گا تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گااور لاکھوں لوگ رائے ونڈ جائینگے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…