جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

مصری حکومت نے دو جزیروں صناقیر اور تیران کو سعودی عرب کی سمندری حدود کاحصہ قراردیدیا

datetime 10  اپریل‬‮  2016 |

قاہرہ(نیوزڈیسک)مصر کی حکومت نے اپنے دو جزیرے صنافیر اور تیران سعودی عرب کے علاقائی سمندری حدود کا حصہ قرار دے دیے ہیں۔ قاہرہ حکومت کا کہنا ہے کہ نقشے تیار کرنے والی سرکاری کمیٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بحر احمر میں واقع دونوں جزیرے اب سعودی عرب کی سمندری حدود کا حصہ ظاہر کر دیے گئے ہیں۔عرب خبررساں ادارے کے مطابق مصری حکومت کی جانب سے یہ اعلان دونوں ملکوں کے درمیان سمندری حدود کے تعین سے متعلق ہونے والے دو طرفہ معاہدے کے ایک روز بعد جاری کیا گیا ہے۔ قبل ازیں مصری حکومت نے اپنے دو جزیروں صنافیر اور تیران کو سعودی عرب کے کنٹرول میں دینے کا اعلان کیا تھا۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سرکاری نقشے میں دنوں جزیروں کو سعودی عرب کی علاقائی سمندری حدود کے اندر ظاہر کیا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے سابق فرمانروا شاہ عبدالعزیز آل سعود نے مصری حکومت سے بھی اپنی سمندری حدود کے تحفظ کے لیے یہ دونوں جزیرے 1950ءمیں مانگے تھے اورمصر کی اس وقت کی حکومت نے اس کی منظوری دے دی تھی۔دونوں ملکوں کے درمیان سمندری حدود کے تعین کے لیے چھ سال تک مسلسل مذاکرات جاری رہے۔ مذارکرات کے 11 دور میں سے آخری تین دور سنہ 2015ء میں ہوئے تھے جس کے بعد دسمبر 2015ء کو مصر نے 30 جولائی 2015ء کو طے پائے سمجھوتے کی روشنی میں سمندری حدود کا تعین کر دیا تھا۔یاد رہے کہ دونوں جزیرے بحیرہ احمر میں واقع ہیں۔ جزیرہ تیران خلیج عقبہ کو بحر احمر سے آبنائے تیران کے مقام سے جدا کرتا ہے جس کا رقبہ 80 کلومیٹر ہے۔ یہ جزیرہ آبی مخلوقات، گھاٹیوں اور مشرقی ملکوں بالخصوص بھارت کی طرف سے ہونے والی آبی تجارت کی اہم گذرگاہ ہے۔ سنہ 1956ء میں اس جزیرے پر اسرائیل نے اپنا تسلط جما لیا تھا تاہم سنہ 1982ء میں طے پائے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کےبعد یہ جزیرہ مصر کو واپس کر دیا تھا۔جزیرہ صنافیر آبنائے تیران ے مشرق میں واقع سعودی سمندری حدود میں شامل ہے۔ یہ جزیرہ بھی خلیج عقبہ کو بحر احمر سے جدا کرتا ہے۔23 کلو میٹر پر محیط اس جزیرے کو بھی آبی گذرگاہ اور سمندری حدود کے تحفظ کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…