جمعہ‬‮ ، 27 مارچ‬‮ 2026 

مصری حکومت نے دو جزیروں صناقیر اور تیران کو سعودی عرب کی سمندری حدود کاحصہ قراردیدیا

datetime 10  اپریل‬‮  2016 |

قاہرہ(نیوزڈیسک)مصر کی حکومت نے اپنے دو جزیرے صنافیر اور تیران سعودی عرب کے علاقائی سمندری حدود کا حصہ قرار دے دیے ہیں۔ قاہرہ حکومت کا کہنا ہے کہ نقشے تیار کرنے والی سرکاری کمیٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بحر احمر میں واقع دونوں جزیرے اب سعودی عرب کی سمندری حدود کا حصہ ظاہر کر دیے گئے ہیں۔عرب خبررساں ادارے کے مطابق مصری حکومت کی جانب سے یہ اعلان دونوں ملکوں کے درمیان سمندری حدود کے تعین سے متعلق ہونے والے دو طرفہ معاہدے کے ایک روز بعد جاری کیا گیا ہے۔ قبل ازیں مصری حکومت نے اپنے دو جزیروں صنافیر اور تیران کو سعودی عرب کے کنٹرول میں دینے کا اعلان کیا تھا۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سرکاری نقشے میں دنوں جزیروں کو سعودی عرب کی علاقائی سمندری حدود کے اندر ظاہر کیا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے سابق فرمانروا شاہ عبدالعزیز آل سعود نے مصری حکومت سے بھی اپنی سمندری حدود کے تحفظ کے لیے یہ دونوں جزیرے 1950ءمیں مانگے تھے اورمصر کی اس وقت کی حکومت نے اس کی منظوری دے دی تھی۔دونوں ملکوں کے درمیان سمندری حدود کے تعین کے لیے چھ سال تک مسلسل مذاکرات جاری رہے۔ مذارکرات کے 11 دور میں سے آخری تین دور سنہ 2015ء میں ہوئے تھے جس کے بعد دسمبر 2015ء کو مصر نے 30 جولائی 2015ء کو طے پائے سمجھوتے کی روشنی میں سمندری حدود کا تعین کر دیا تھا۔یاد رہے کہ دونوں جزیرے بحیرہ احمر میں واقع ہیں۔ جزیرہ تیران خلیج عقبہ کو بحر احمر سے آبنائے تیران کے مقام سے جدا کرتا ہے جس کا رقبہ 80 کلومیٹر ہے۔ یہ جزیرہ آبی مخلوقات، گھاٹیوں اور مشرقی ملکوں بالخصوص بھارت کی طرف سے ہونے والی آبی تجارت کی اہم گذرگاہ ہے۔ سنہ 1956ء میں اس جزیرے پر اسرائیل نے اپنا تسلط جما لیا تھا تاہم سنہ 1982ء میں طے پائے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کےبعد یہ جزیرہ مصر کو واپس کر دیا تھا۔جزیرہ صنافیر آبنائے تیران ے مشرق میں واقع سعودی سمندری حدود میں شامل ہے۔ یہ جزیرہ بھی خلیج عقبہ کو بحر احمر سے جدا کرتا ہے۔23 کلو میٹر پر محیط اس جزیرے کو بھی آبی گذرگاہ اور سمندری حدود کے تحفظ کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…