ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

بلی کا پتہ دیں اور 30000 ڈالر انعام پائیں

datetime 7  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)کچھ اشیاءکسی کے لیے بہت قیمتی مگر دوسروں کے لیے بے وقعت ہوتی ہیں۔ چیزوں کے ساتھ وابستہ جذبات انھیں اس شخص کے لیے قیمتی بنادیتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ فلوریڈا کے رہائشی اسٹیو روسن کے ساتھ ہے۔
اسٹیو نے بلّیاں پال رکھی تھیں۔ ان میں سے چھے پچھلے سال پ±راسرار طور پر اس کے گھر سے غائب ہوگئیں۔ بعد میں ایک بلّی ازخود واپس آگئی مگر پانچ ہنوز لاپتا ہیں۔ اسٹیو کو بلیوں سے بے انتہا لگاو¿ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے گم شدہ بلیوں کا سراغ لگانے کے لیے بھاری معاوضے پر ایک سراغ رساں کی خدمات حاصل کرنے کے علاوہ ان کی مخبری کرنے والے کو 30000 ڈالر( تیس لاکھ روپے سے زائد) دینے کا اعلان بھی کردیا ہے، مگر بھاری انعامی رقم کے باوجود ابھی تک اسے پالتو بلیوں کی تلاش میں کام یابی نہیں ملی۔
روسن نے ایک کلینک کھول رکھا ہے جس میں دانتوں اور جلدی امراض کے ماہر ڈاکٹر پریکٹس کرتے ہیں۔ اس کی چہیتی بلیوں کی گم شدگی کی شروعات گذشتہ برس مارچ میں ہوئی تھی۔ پچھلے ماہ تک وقفے وقفے سے چھے بلیاں غائب ہوگئیں ، جن میں سے ایک کچھ دنوں کے بعد واپس آگئی تھی۔
روسن کا کہنا ہے یہ جانور اسے اپنی اولاد کی طرح عزیز تھے۔ ان کی گم شدگی پر اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے جگرگوشوں سے محروم ہوگیا ہو۔ روس نے بلّیوں کی گم شدگی کے خدشے کے پیش نظر ان کے جسم میں مائیکروچِپس نصب کروادی تھیں اور ان کے گلے میں ریڈیو کالر ڈالے گئے تھے، اس کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہ ملنا حیرانی کی بات ہے۔ پہلے پہل اس نے اپنے طور پر انھیں ڈھونڈنے کی کوشش کی، مگر حیران ک±ن طور پر مائیکروچپس سے کوئی سگنل موصول نہیں ہوئے۔اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ بلیاں ازخود کہیں نہیں گئیں بلکہ کوئی انھیں وقفے وقفے سے غائب کررہا تھا اور وہ شخص ان کے جسم میں مائیکروچپ کی موجودگی سے بھی آگاہ تھا۔ روسن کی پالتو بلیاں عام گھریلو بلیاں تھیں اس لیے ان کا مالی فائدے کے لیے چ±رایا جانا بھی بعیدازقیاس تھا۔ اس لیے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی نے محض ذاتی مخاصمت کی وجہ سے اسے بلیوں سے محروم کردیا ہے۔ بلیوں کی تلاش میں ناکام ہونے کے بعد روسن نے پولیس کو اطلاع دی لیکن پولیس بھی اب تک چور اور مال مسروقہ کا سراغ نہیں لگاسکی۔ چناں چہ اس نے دس ہزار ڈالر عوض سراغ رساں کی خدمات حاصل کرنے کے علاوہ آخری کوشش کے طور پر بھاری انعام کا اعلان بھی کردیا ہے جو اس کی پیاری بلیوں کی بازیابی میں معاونت کرنے والے کو دیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…