ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

کرپشن میں ملوث نادرا کے 200سے زائداہلکاروں کو نوکریاں سے نکالا جا چکا ،چوہدری نثار

datetime 5  اپریل‬‮  2016 |

راولپنڈی (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومت کے آخری سال میں نادرا ایک ارب خسارے کا شکار تھا، اب 6 ارب روپے منافع میں ہے، سرکاری اداروں میں کرپشن قابل قبول نہیں، اڑھائی سال میں ایک لاکھ سے زائد جعلی شناختی کارڈ بلاک کئے جا چکے،کرپشن میں ملوث نادرا کے 200سے زیادہ اہلکاروں کو نوکریاں سے نکالا جا چکا جن میں سے کچھ جیل کی ہوا کھا رہے ہیں،افغانیوں کے بھی ہزاروںشناختی کارڈ بلاک کئے گئے، بدعنوان عناصر کوئی بھی ہوکارروائی ہوگی۔ وہ منگل کورحمان آباد میں پاسپورٹ اور نادرادفاتر کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ وزیر داخلہ نے نادر آفس کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور نادرا و پاسپورٹ دفاتر کے عملے کی کارکردگی کو سراہا۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ پورے ملک میں نادرا کے 6 میگا سینٹر بنا رہے ہیں، ایک اسلام آباد میں اور 4صوبائی دارالحکومتوں میں قائم کئے جا رہے ہیں، ان میگا سینٹرز کو عالمی معیار کے مطابق جدید سہولتوں سے آراستہ کیا گیا ہے، ان میگا سینٹرز کا مقابلہ دنیا میں کسی بھی پاسپورٹ آفس سے کیا جا سکتا ہے، پاسپورٹ اور نادرا میگا سینٹرز کے قیام کا مقصد عوام کو اچھی سہولیات دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت کے آخری سال نادرا ایک ارب روپے خسارے میں رہا، ہمارے پہلے سال نادرا پانچ ارب فائدے میں رہا، اس سال چھ ارب کے فائدے میں ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ہم نے ان پیسوں کے ہار نہیں خریدنے یا حکومتی ٹیم کو مراعات دینے میں خرچ نہیں کئے یہ پیسے عوام کو بہتر سہولیات دینے کےلئے خرچ کئے ہیں، ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ میں اس سال قومی خزانے میں 22 ارب روپے جمع کرائے ہیں، میری خواہش تھی کہ وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہو لیکن ہمارا ہر شہری وی آئی پی ہے، میں نے سب سے پہلے کرپشن پر فوکس کیا، سرکاری اداروں میں کرپشن قابل قبول نہیں ہے،پچھلے اڑھائی سالوں میں ایک لاکھ سے زیادہ جعلی شناختی کارڈز بلاک کئے جا چکے ہیں ، نادرا کے 200 سے زائد اہلکار کرپشن کی وجہ سے اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور بہت سے جیل کی ہوا کھا رہے ہیں، افغانیوں کے ہزاروں شناختی کارڈ بھی بلاک کئے جا چکے ہیں، نہ صرف جعلی شناختی کارڈ بنانے والوں بلکہ غلط تصدیق کرنے والوں کے خلاف بھی مقدمات درج کریں گے، بدعنوان عناصر کوئی بھی ہو اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔(اح)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…