ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

پاناما پیپرز لیکس دراصل ہیں کیا؟دنیا کے امیر اورطاقتورافراد کیا کرتے رہے؟ تہلکہ خیز انکشاف

datetime 4  اپریل‬‮  2016 |

لندن(نیوزڈیسک)پاناما پیپرز لیکس دراصل ہیں کیا؟دنیا کے امیر اورطاقتورافراد کیا کرتے رہے؟ تہلکہ خیز انکشاف،برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بڑے پیمانے پر خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کے چوٹی کے امیر اور طاقتور افراد کیسے ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ ان افراد میں کئی ملکوں کے سربراہانِ حکومت اور سیاسی رہنما شامل ہیں۔یہ دستاویزات پاناما کی ایک لا فرم موساک فونیسکا سے افشا ہوئیں اور ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ 40 برسوں سے بےداغ طریقے کام کر رہی ہے اور اس پر کبھی کسی غلط کام میں ملوث ہونے کا الزام نہیں لگا۔دستاویزات میں دنیا کے 72 حالیہ یا سابقہ سربراہانِ مملکت، بشمول آمروں، کا ذکر ہے، جن پر اپنے ملکوں کی دولت لوٹنے کا الزام ہے۔آئی سی آئی جے کے ڈائریکٹر جیرارڈ رائل کہتے ہیں کہ یہ دستاویزات پچھلے 40 برسوں میں موساک فونیسکا کی روزمرہ کی سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہیں۔انھوں نے کہا: ’میرے خیال سے یہ انکشافات ’آف شور‘ دنیا کو پہنچنے والا سب سے بڑا صدمہ ثابت ہوں گے۔‘اس ڈیٹا میں ان خفیہ آف شور کمپنیوں کا ذکر ہے جن کے مصر کے سابق صدر حسنی مبارک، لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی اور شام کے صدر بشار الاسد کے خاندانوں اور ساتھیوں کے ساتھ روابط ہیں۔پاناما میں قائم قانونی ادارے موساک فونیسکا کے پاس موجود ایک کروڑ سے زائد دستاویزات جرمن اخبار سودیوچے زیتنگ نے حاصل کیے، جس نے انھیں تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیا۔ بی بی سی پینوراما 78 ملکوں کے ان 107 میڈیا اداروں میں شامل ہے جو ان دستاویزات کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ان دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کمپنی کیسے اپنے گاہکوں کا کالا دھن سفید کرنے، پابندیوں سے بچنے اور ٹیکس چوری کرنے میں مدد فراہم کرتی تھی۔موساک فونیسکا کا کہنا ہے کہ وہ 40 برسوں تک بےداغ طریقے سے کام کرتی رہی ہے، اور ان پر کبھی کسی قسم کا مجرمانہ الزام نہیں لگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…