منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی ۰۶۰۲ تک سمندر میں ڈوب جائے گا،جاننے کیلئے کلک کریں

datetime 10  فروری‬‮  2015 |

اسلام آباد… سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے سائنس وٹیکنالوجی کے اجلاس میں انکشاف کیاگیا ہے کہ کراچی کے علاقے ملیر کا کچھ حصہ سمندر کاحصہ بن چکا ہے۔

2050 تک بدین اور ٹھٹھہ کے علاقے سمندرمیں شامل ہوجائیں گے جبکہ کراچی2060 تک سمندر میں ڈوب جائے گا، پچھلے 35سال کے  دوران سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقے کے2کلومیٹر تک سمندرکا حصہ بن چکے ہیں جبکہ سندھ کی 2لاکھ ایکڑ اراضی بھی سمندر میں ڈوب چکی ہے، بدین کے31ہزار ایکڑپر سمندر پھیل چکا ہے، ارکان کمیٹی نے سمندری سطح کا جائزہ لینے کے لیے پلان بنانے کی سفارش کردی۔

کمیٹی کا اجلاس پروفیسر ساجد میر کی زیرصدارت ہوا جس میں سمندری پانی کا دریائے سندھ زیریں علاقوں اوربلوچستان کے زیریںو ساحلی علاقوں میں داخل اوراس کے اثرات کاتفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل این آئی او ڈاکٹر آصف انعام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے اوراس کے علاقائی سمندروں کے پروگرام نے 1989 میں پاکستان کوسمندر کی سطح بلند ہونے والے ممالک میں شامل کیا ہے۔

این آئی او کی رپورٹ کی مطابق سطح سمندرایک سال میں 1.3 ملی میٹرکے حساب سے پاکستان میں بلندہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سے ڈیلٹائی علاقے، نباتاتی، حیاتیاتی زندگی متاثر ہورہی ہے اور سندھ کے اطراف کی زمین سمندرمیں دھنس رہی ہے۔ اس بارے میں اعدادو شمار ہمارے پاس نہیں ہیں۔ سیکریٹری سائنس کامران علی قریشی نے کہاکہ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ حکومت ایسالائحہ عمل اختیارکرے کہ ان مسائل کاتدارک کیا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…