ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ایرانی صدر کی پاکستانی صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقاتوں میں گرفتار ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کو رہا کرنے کی درخواست

datetime 28  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایرانی صدر کے دو روزہ دورہ پاکستان کی قدرے تاخیر سے منظر عام پر آنے والی معلومات کی وجہ پاکستان میں کئی ایرانی انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی گرفتاری ہے ، سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ لوگ پاکستان کے قومی مفادات کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور غیرقانونی طور پاکستان کے میں داخل ہوئے۔ ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے وزیراعظم نوازشریف، صدر ممنون حسین اور ایرانی وزیر داخلہ نے چودھری نثار علی خان کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران ان اہلکاروں کو رہا کرنے کی درخواست کی جس کا پاکستان نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مذکورہ ایرانی اہلکاروں کی گزشتہ کئی ماہ کے دوران کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔ پاکستان نے باہمی تعلقات کی ساکھ قائم رکھنے کی خاطر اس کا اعلان نہیں کیا لیکن ایرانی حکومت کو گرفتاریوں سے آگاہ کیا جاتا رہا۔تفصیلات کے مطابق مطابق وزیراعظم نوازشریف نے ڈاکٹر حسن روحانی کا ائیرپورٹ پر خود خیرمقدم کیا اور صدر ممنون حسین نے انہیں الوداع کہا۔ تاہم آداب میزبانی اور شائستگی کی تمام روایات کو ملحوظ رکھتے ہوئے بھی پاکستان کی طرف سے نہ صرف ایرانی وفد کیلئے غیرمعمولی تپاک کا مظاہرہ نہیں کیا گیا بلکہ توانائی کے شعبہ سمیت ایران کی طرف سے تعاون کی اہم پیشکشوں کا فوری جواب نہیں دیا۔ اس ذریعے کے مطابق ایران کی سلامتی کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عمدہ تعاون کے باوجود پاکستان کو مثبت جواب نہیں مل رہا تھا۔ پاکستان گزشتہ ڈیڑھ برس سے براہ راست یا بالواسطہ رابطوں کے ذریعہ ایرانی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی نشاندہی کر رہا تھا۔ جنرل راحیل نے ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران اگرچہ یہ معاملہ اٹھایا لیکن اعلیٰ سطح کے دو طرفہ روابط کے دوران پہلے بھی یہ بات ہوتی رہی لیکن پاکستان کی شکایات کا ازلہ نہ ہونے کے بعد اسلام آباد میں یہ طے کیا گیا کہ دوطرفہ تعلقات کو بہترین سطح پر رکھنے کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے ایران سے کھل کر باور کر ایا جائے کہ اس کی سرزمین سے بھارتی کارروائیاں پاکستان اور ایران کے تعلقات پر اب منفی انداز میں اثر انداز ہو رہی ہیں۔ پاکستانی شکایات کے ازالے کے بعد ہی ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس ذریعے کے مطابق ایرانی صدر نے پاکستان کو بجلی کی فراہمی ایک ہزار میگاواٹ سے بڑھا کر تین ہزار میگا واٹ کرنے کی پیشکش کی لیکن پاکستان نے فوری جواب نہیں دیا۔ ایرانی صدر نے اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے دوران کہا کہ سرحدی علاقہ کو پاک ایران تجارت کا مرکز بنایا جائے اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب دونوں ملکوں کی سرحد محفوظ ہو جس کے جواب میں انہیں پاکستان کی طرف سے کئے گئے اقدامات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا کہ بلوچستان میں شورش کے باوجود پاکستان نے حالات کو بہتر بنایا ہے۔ ایران بھی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ اس ضمن میں ایرانی تجاویز پر پاکستان غور کرے گا۔ پاکستان کی طرف سے خطہ میں استحکام کیلئے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کا ذکر کیا گیا جب کہ ایرانی صدر نے اس تنازعہ کے ذکر سے اجتناب کرتے ہوئے یمن، شام ،عراق اور افغانستان پر توجہ مرکوز رکھی۔ حسن روحانی سلامتی و معاشی تعاون کے حوالے سے تیاری کرکے آئے تھے مگر بھارتی جاسوس کی گرفتاری نے منظرنامہ بدل دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…