ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

پاک ایران مشترکہ بزنس فورم کا اجلاس: بینکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کیلئے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

datetime 26  مارچ‬‮  2016 |

اسلام اّباد (اپنے رپورٹر سے ) وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے گہر ے تعلقات باہمی احترام ،مذہب اور ثقافت پر مبنی ہیں، دونوں ممالک کے برادارانہ تعلقات کو شراکت داری میں تبدیل کرنا ضروری ہے ، دونوں ممالک تجارت کے حجم کو 5ارب ڈالر تک پہنچا سکتے ہیں ،پانچ سال میں تجارت سے دونوں ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں ہفتہ کو پاک ایران مشترکہ بزنس فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر ایران کے صد ر حسن روحانی اور وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار ، وزیر تجارت خرم دستگیر ، وزیر دفاع خوجہ آصف، کے علاوہ ایرانی وفد کے اراکین اورتجاروں کی بڑی تعداد موجود تھی ، اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے مرکزی بینکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط بھی کیے گئے ، اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ صدر حسن روحانی کو پاکستان کے دورے پر خوش آمدید کہتے ہیں ،موجودہ حکومت خطے کے ممالک کے ساتھ علاقائی روبط کو فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ، خطے کے ملکوں کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے لیے چین کے اشتراک سے اقتصادی راہدری قائم کر رہے ہیں معاشی اہداف کے حصول کے لیے دہشت گردی اور توانائی بحران سے جلد نمٹنا ہو گا،معاشی انقلاب سے ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں خوشحالی آئے گی دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کر رہے ہیں، دہشت گردی کی عنفریت سے نمٹے بغیر قائد کا پاکستان حاصل کرنا مشکل ہے، وزریراعظم نے کہا توانائی بحران کی وجہ سے شرح نمود میں 2فیصد تک کمی کا سامنا ہے ، اسلامی ملکوں کا عالمی تجارت میں حصہ کم ہے،پاکستان اور ایران کو ایک جیسے معاشی چیلنجز کا سامنا ہے پاک ایران مشترکہ بزنس فورم کا قیام عالمی تجارت کے فروغ کے لیے مفید ثابت ہو گا ، مشترکہ فورم کے اجلاس کے انعقاد پر وزارت تجارت مبارکباد کی ممستحق ہے ، اس موقع پر ایرانی صدر حسن روحانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہترین مہمان نواز ی پر پاکستانی عوام اور وزیراعظم کے شکر گزار ہیں ، بزنس فورم کے انعقاد پر منظمین کے مشکور ہیں ، پاکستان اور ایران کا معاشی استحکام ایک ہے ،پاکستان اور ایران باہمی تعاون سے معاشی ترقی حاصل کر سکتے ہیں ، ایران پاکستان کو ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ملک دیکھنا چاہتا ہے، علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے دونوں ملکوں میں اقتصادی استحکام ضروری ہے، سلامتی اور ترقی ایک دوسرے سے منسلک ہیں ، ایران پاکستان کے ساتھ ،انفرسٹرکچر ،ڈیموں ،سڑکوں ، تجارت ،تیل اور گیس کے شعبوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ ایران پاکستان کے ساتھ ٹرانزٹ اور سیاحت ، کے شعبوں میں تعاون کرنا چاہتا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے فائد ہ اٹھا سکتے ہیں پاکستان اور ایران کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کے مواقع موجود ہیں ، ایران پاکستان کی توانائی اور گیس کی ضرورت پوری کر سکتا ہے ، پاکستان کے ساتھ تعلیم کے شعبے میں بھی تعاون کر سکتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ ایران نے ا قتصادی پابندویوں کے باوجود ایران نے خطرات کا مقابلہ کیا ہے ، پاکستان ایران کے درمیان مذہبی اور ثقافتی اقدار مشترکہ ہیں ۔دیگر پڑوسی ممالک کی نسبت ایران پاکستانی عوام کو اہمیت دیتا ہے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرتجارت خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان صدیوں پرانے برادرانہ تعلقات ہیں دونوں ممالک کو مشترکہ معاشی چیلنجز کا سامنا ہے ،انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں ،دونوں ممالک اقتصادی اور تجاری موقوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ،پاکستان ایرانی تاجروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…