بوسٹن(نیوز ڈیسک)ڈاکٹروں نے ایک طویل مطالعےکے بعد کہا ہے کہ دہی ہائی بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور اس کا باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر بڑھنے سے بھی روکتا ہے۔ اپنی نوعیت کے ایک بڑے مطالعے میں لاکھوں افراد پر اس کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ دہی کا باقاعدہ استعمال بلند فشارِ خون کو 20 فیصد تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مردوں کے مقابلے میں خواتین پر اس کے زیادہ فوائد مرتب ہوتے ہیں البتہ تحقیق کے دوران جو خواتین و حضرات پھل ، سبزیاں اور پھلیاں کھاتے رہے، دہی کا استعمال ان کے بلڈ پریشر میں 31 فیصد کمی کی وجہ بنا۔ یہ تحقیق بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن نے کی ہے اور اس کے سائنسداں جسٹن بیونڈا کے مطابق اگرچہ دہی جادوئی شے نہیں لیکن دہی کو خوراک میں شامل کرنے سے بلڈ پریشربڑھنے کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔ اس مطالعے میں 2 لاکھ 40 ہزار افراد شامل کئے گئے تھے جن میں اکثریت 25 سے 55 سال کی خواتین شامل تھی جبکہ مردوں کی عمریں 40 سے 75 برس تھی۔
خیال رہے کہ دہی میں موجود ایک بیکٹیریا جسم پر مفید اثرات مرتب کرکے نہ صرف بلڈ پریشر قابو کرتا ہے بلکہ کولیسٹرول اور شکر کو بھی معمول پر رکھتا ہے اس کے علاوہ دیگر مطالعوں سے ثابت ہوا ہے کہ دہی امراضِ قلب اور ہڈیوں کی بریدگی (ٓآسٹیوپروسس) سے بھی بچاتا ہے۔
دہی کھانے سے اب ہائی بلڈ پریشرمیں 20 فیصد تک کمی ممکن
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
کورونا بوسٹر ویکسین لگوانے والوں کیلئے اہم خبر ، سائنسدانوں کا بڑا انکشاف
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک
-
بجلی کے یونٹ پر سیلز ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ
-
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
4 اگست کو سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان
-
دانتوں کے کیڑے سے بچاؤ کا مؤثر اور آسان طریقہ سامنے آگیا
-
متحدہ عرب امارات نے محدود مدت کیلئے بڑی سہولت دے دی
-
55 سالہ شخص کی 2 کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی
-
ہاتھ ملانے پر پابندی، بھارتی ویمن کھلاڑی فاطمہ ثناء کے گلے لگ گئیں، ویڈیو وائرل
-
جامعات اور کالجز میں دو روزہ تعطیل کا فیصلہ
-
اگست سے اکتوبر تک ملک میں معمول سے کم بارشوں اور زیادہ گرمی کی پیشگوئی
-
رشتے کے تنازع پر مخالفین کی گھر میں فائرنگ، 3 بھائی جاں بحق, بچہ زخمی
-
گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
’دشمن بھی خاندانی ہونا چاہیے‘، ثاقب چدھڑ کا عروبہ مرزا کو کرارا جواب



















































