) لاہور میں سکیورٹی خدشات کی باعث میٹرو بس سروس کئی گھنٹے تک بند رکھنے کے بعد دوبارہ بحال کر دی گئی جبکہ تمام اسٹیشنز کی سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ،میٹرو سروس کی بندش کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے روزگار تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا اور اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے لوکل ٹرانسپورٹ کا سہارا لینا پڑرہا ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز لاہور میں میٹرو بس سروس کو صبح کے وقت بند کردیا گیا ہے، سروس کی بندش کا فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے جبکہ بسوں کو گجومتہ بس ڈپو منتقل کردیا گیا اور تمام اسٹیشنز کی سکیورٹی سخت کردی گئی ۔لاہور میٹرو بس سروس میں روزانہ تقریباً دو لاکھ کے قریب مسافر سفر کرتے ہیںاور سروس کی بندش کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے روزگار تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہااور اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے لوکل ٹرانسپورٹ کا سہارا لینا پڑا۔شہریوں کا کہنا تھا کہ میٹرو بس سروس بند ہونے کی وجہ سے ڈبل کرایہ ادا کرنا پڑرہا ہے اور روزگار تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت جلد از جلد میٹروبس سروس بحال کرے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ فیصلہ لاہور میں ایک اعلی سطح کے اہم اجلاس میں کیا گیا ہے جس میں چیف سیکرٹری ، ڈی سی او ، کمشنر اور دیگر اعلی افسران نے شرکت کی ۔پنجاب حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹرو بس سروس کی معطلی کا اقدام انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے، سکیورٹی کلیئرنس ملتے ہی میٹرو سروس کو بحال کردیا جائے گا۔بعد ازاں شام 5بجے کے قریب میٹرو بس سروس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ سروس ضلعی حکومت کی درخواست پر عارضی طور پر بند کی گئی تھی اور اب کلیئرنس ملنے کے بعد دوبارہ بحال کر دی گئی ہے تاہم اس کے ساتھ تمام میٹرو بس کے تمام اسٹیشنز کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ بدھ کے روز بھی میٹرو بس سروس سکیورٹی خدشات کی بنا پر جزوی طور پر معطل رکھی گئی تھی اور سروس گجومتہ سے شاہدرہ تک چلنے کی بجائے ایم اے او کالج تک چلائی گئی تھی۔
میٹرو چل پڑی
لاہور (نیوز ڈیسک
) لاہور میں سکیورٹی خدشات کی باعث میٹرو بس سروس کئی گھنٹے تک بند رکھنے کے بعد دوبارہ بحال کر دی گئی جبکہ تمام اسٹیشنز کی سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ،میٹرو سروس کی بندش کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے روزگار تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا اور اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے لوکل ٹرانسپورٹ کا سہارا لینا پڑرہا ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز لاہور میں میٹرو بس سروس کو صبح کے وقت بند کردیا گیا ہے، سروس کی بندش کا فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے جبکہ بسوں کو گجومتہ بس ڈپو منتقل کردیا گیا اور تمام اسٹیشنز کی سکیورٹی سخت کردی گئی ۔لاہور میٹرو بس سروس میں روزانہ تقریباً دو لاکھ کے قریب مسافر سفر کرتے ہیںاور سروس کی بندش کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے روزگار تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہااور اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے لوکل ٹرانسپورٹ کا سہارا لینا پڑا۔شہریوں کا کہنا تھا کہ میٹرو بس سروس بند ہونے کی وجہ سے ڈبل کرایہ ادا کرنا پڑرہا ہے اور روزگار تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت جلد از جلد میٹروبس سروس بحال کرے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ فیصلہ لاہور میں ایک اعلی سطح کے اہم اجلاس میں کیا گیا ہے جس میں چیف سیکرٹری ، ڈی سی او ، کمشنر اور دیگر اعلی افسران نے شرکت کی ۔پنجاب حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹرو بس سروس کی معطلی کا اقدام انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے، سکیورٹی کلیئرنس ملتے ہی میٹرو سروس کو بحال کردیا جائے گا۔بعد ازاں شام 5بجے کے قریب میٹرو بس سروس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ سروس ضلعی حکومت کی درخواست پر عارضی طور پر بند کی گئی تھی اور اب کلیئرنس ملنے کے بعد دوبارہ بحال کر دی گئی ہے تاہم اس کے ساتھ تمام میٹرو بس کے تمام اسٹیشنز کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ بدھ کے روز بھی میٹرو بس سروس سکیورٹی خدشات کی بنا پر جزوی طور پر معطل رکھی گئی تھی اور سروس گجومتہ سے شاہدرہ تک چلنے کی بجائے ایم اے او کالج تک چلائی گئی تھی۔
) لاہور میں سکیورٹی خدشات کی باعث میٹرو بس سروس کئی گھنٹے تک بند رکھنے کے بعد دوبارہ بحال کر دی گئی جبکہ تمام اسٹیشنز کی سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ،میٹرو سروس کی بندش کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے روزگار تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا اور اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے لوکل ٹرانسپورٹ کا سہارا لینا پڑرہا ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز لاہور میں میٹرو بس سروس کو صبح کے وقت بند کردیا گیا ہے، سروس کی بندش کا فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے جبکہ بسوں کو گجومتہ بس ڈپو منتقل کردیا گیا اور تمام اسٹیشنز کی سکیورٹی سخت کردی گئی ۔لاہور میٹرو بس سروس میں روزانہ تقریباً دو لاکھ کے قریب مسافر سفر کرتے ہیںاور سروس کی بندش کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنے روزگار تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہااور اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے لوکل ٹرانسپورٹ کا سہارا لینا پڑا۔شہریوں کا کہنا تھا کہ میٹرو بس سروس بند ہونے کی وجہ سے ڈبل کرایہ ادا کرنا پڑرہا ہے اور روزگار تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت جلد از جلد میٹروبس سروس بحال کرے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ فیصلہ لاہور میں ایک اعلی سطح کے اہم اجلاس میں کیا گیا ہے جس میں چیف سیکرٹری ، ڈی سی او ، کمشنر اور دیگر اعلی افسران نے شرکت کی ۔پنجاب حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹرو بس سروس کی معطلی کا اقدام انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے، سکیورٹی کلیئرنس ملتے ہی میٹرو سروس کو بحال کردیا جائے گا۔بعد ازاں شام 5بجے کے قریب میٹرو بس سروس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ سروس ضلعی حکومت کی درخواست پر عارضی طور پر بند کی گئی تھی اور اب کلیئرنس ملنے کے بعد دوبارہ بحال کر دی گئی ہے تاہم اس کے ساتھ تمام میٹرو بس کے تمام اسٹیشنز کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ بدھ کے روز بھی میٹرو بس سروس سکیورٹی خدشات کی بنا پر جزوی طور پر معطل رکھی گئی تھی اور سروس گجومتہ سے شاہدرہ تک چلنے کی بجائے ایم اے او کالج تک چلائی گئی تھی۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان
-
میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلہ پالیسی جاری، فیس کا بھی اعلان
-
مکہ کی مسجد کے اندر غیر اخلاقی حرکت کرنے پرایک بنگلادیشی مرد اور ایک خاتون کو سزائے موت
-
پہلے سے جاری شدہ لائسنس ہولڈرز بارےاہم اعلان
-
اقرار الحسن کو بڑا عدالتی جھٹکا
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کےلیے خوشخبری، ایک ساتھ تین چھٹیاں
-
پاکستانی ای پاسپورٹ کی نئی فیسوں کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
’’شیطان مر گیا‘‘: نانا پاٹیکر کے بیٹے کا تنوشری دتہ کے متنازع بیان پر ردعمل آگیا
-
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق درخواست نمٹا دی
-
پیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا۔۔ نئی قیمتوں کا اعلان
-
حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ سے زیادتی بھی کی گئی، ملازم سے ڈی این اے میچ کرگیا
-
ہائوسنگ سوسائٹیوں کے قوانین میں بڑی ترامیم منظور
-
مردوں اور خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھانے والی اہم وجہ دریافت
-
ای پاسپورٹ کا اجرا ! پرانے پاسپورٹ رکھنے والے کیا کریں گے؟



















































