منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تمام امام بارگاہیں حساس قرار ۔۔۔

datetime 30  جنوری‬‮  2015 |

وفاقی حکومت نے تمام بارگاہوں کو حساس قرار دینے کا فیصلہ کر لیا ‘آپریشن ضرب عضب اور فرقہ واریت کے خاتمے پر کمر بستہ حکومت نے کسی بھی ردعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے امام بارگاہوں کو حساس قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے‘ آج شکار پور میں نماز کے دوران ہونے والے خود کش حملے میں 50سے زائد افراد ہلاک جبکہ 70سے زائد زخمی ہوگئے‘ملک میں شدت پسندی اور دہشت گردی کا کھوج لگایا جائے تو بات فرقہ واریت سے جاجڑتی ہے ‘ یہ فرقہ واریت ہی تھی جس نے بعد ازاں دہشتگردی کے عفریت کو جنم دیا اور آج ریاست اس چار دہائیوں پر محیط اپنی لاپرواہی کو ٹھیک کرنے کا تہیہ کیے بیٹھی ہے‘ گذشتہ دنوں راولپنڈی میں امام بارگاہ میں ہونے والے حملے اور آج شکار پور میں بے گناہ نمازیوں کے خون کے چھینٹوں نے وفاقی حکومت کو جھنجوڑدیا ‘ویسے تو پاکستان کا کوئی مقام بھی دہشت گردوں سے محفوظ نہیں مگر عبادت گاہوں ‘مسجد‘چرچ‘مزاراور امام بارگاہیں خاص طور پر زیر عتاب رہیں‘ اور اب ضرب عضب اور اکیسویں ترمیم کے بعد حکومت کھل کر دہشتگردی اور شدت پسندی کے خاتمے کا عزم کئے ہوئے ہے‘اسی لئے اب یہ جنگ پاکستان کے گلی محلوں تک آنے کا خدشہ ہے ‘ آنے والے دنوں میں ممکنہ کارروائیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک بھر کی امام بارگاہوں کی سیکورٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘اس فیصلے کے تحت تمام بارگاہوں کے گرد حفاظتی باڑیں بنائی جائیں گی‘پولیس کی اضافی نفری تعینات کی جائے گی‘ حفاظتی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی‘ نگرانی کا نظام قائم کیا جائے گا‘ محلوں کے لیول پر سول سوسائیٹی سے افراد منتخب کرکے ان کا پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مربوط رابطہ تشکیل دیا جائے گا‘ امام بارگاہوں کے ارد گرد غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع ہوگا‘ امام بارگاہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ضروریات کے مطابق سیکیورٹی کے انتظامات کو یقینی بنائیں گے‘ تما م بارگاہوں کی سیکیورٹی کیلئے مرکزی سینٹرز قائم کیے جائیں گے اور مشکوک افراد و حرکات کی فوری اطلاع پولیس تک پہنچانے کا نظام بنایا جائے گا۔ اب حکومت کے یہ اقدامات کس حد تک موثر ہوتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر حکومت کو معاشرے کی سوچ میں تبدیلی اور برداشت کے کلچر کو پروموٹ کرنے کیلئے بہت کام کرنا ہوگا‘ بین المذاہب ہم آہنگی اور فرقہ واریت کو جڑوں سے کاٹ پھنکنا ہوگا‘تب ہی پر امن پاکستان کا خواب پورا ہو سکے گا۔۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…