جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

صحرائی علاقوں میںصحت اور تعلیم کی سہولتوں کا فقدان ہے،ڈاکٹر سلیمان

datetime 17  فروری‬‮  2016 |

کراچی(نیوز ڈیسک)وفاقی اردو یونیورسٹی کےوائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سلیمان ڈی محمد نے کہا ہے کہ پاکستان کے صحرائی علاقوں میں وسائل کی شدیدکمی ہے، صحت اور تعلیم کی سہولتوں کا فقدان ہے، دیگر جامعات کے لئے وفاقی جامعہ اردو رول ماڈل ہے جو ایسے موضوعات پر کانفرنسوں کا انعقاد کراتی ہے۔وفاقی جامعہ اردو کے شعبہ سندھی کے تحت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے ریگستانی علاقوں کا ادبی جائزہ کے موضوع پرمنعقدہ چوتھی قومی ادبی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں ان کا کہناتھا کہ میڈیا صحرائی علاقوں کی صورتحال پر معلوماتی اورآگاہی پروگرام پیش کرتا رہتا ہے جبکہ حکومت کو ان مسائل کے حل کیلئے ہنگامی بنیاد پر کام کرنا ہوگا۔کانفرنس اور شعبہ سندھی کے چیئرمین ڈاکٹر عنایت حسین لغاری نے کہاکہ کانفرنس میں نامور محققین مقالہ جات کے ذریعے چولستان، بلتستان، تھرپارکر و خیر پور میں واقع صحرائی علاقوں کا ادب، ثقافت، صحت ، تعلیم و دیگر شعبوں کے حوالے سے ہر ممکنہ پہلو پیش کریں۔کانفرنس کے افتتاحی سیشن کے مہمان خصوصی پروفیسر نوازعلی شوق اور مہمان اعزازی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ریجنل ڈائریکٹر سلیمان احمد، رئیس کلیہ فنون پروفیسر ڈاکٹر ناہید ابرار اور ماہر صحرائی ادب و تجزیہ نگار پروفیسر نور احمد جنجھی اور میزبان استاد ا?زادی فتح برفت تھیں جبکہ افتتاحی خطاب پروگرام کنوینر اور رکن سنڈیکیٹ ڈاکٹر اسماعیل موسیٰ نے پیش کیا۔پروگرام کے دوسرے تحقیقی سیشن کی صدارت جامعہ کراچی کے ڈاکٹر نواز علی شوق، مہمان خصوصی چیئرمین سندھی لینگویج اتھارٹی سرفراز اجڑ اور مہمان اعزازی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر پاکستان اکیڈمی ادبیات قادر بخش سومرو تھے ،دیگر مقررین میں پروفیسر ڈاکٹرمزمل حسین، پروفیسر نواز کنبھر،پروفیسر ڈاکٹر علمدار حسین بخاری،ڈاکٹر شیر میرانی، پروفیسر خورشید عباسی،سیما ابڑو شامل تھے جبکہ میزبانی سمیہ ناز اور آزادی برفت نے کی۔پروگرام کے اختتام پر مہانوں کو سندھی اجرک اور اعزازی شیلڈز بھی پیش کی گئیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…