جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

نیشنل ایکشن پلان پر ایک سو دس فیصد عمل ہو رہا ہے، رانا ثنا اللہ

datetime 16  فروری‬‮  2016 |

لاہور(نیوز ڈیسک) صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر پنجاب میں ایک سو دس فیصد عمل ہو رہا ہے ،اسمبلی قواعد و ضوابط کے مطابق اپوزیشن وزیر اعلیٰ پنجاب کو ایوان میں آنے پر مجبور نہیں کرسکتی ، اگر اپوزیشن کو وزیر اعلیٰ سے ملنے کا اتنا ہی شوق ہے تو میں ان کی تنہائی میں ملاقات کروا دیتا ہوں ،وہاں رازو نیاز کی باتیں کر لیں او رمیں بھی اس ملاقات میں موجود نہیں ہوں گا ،اورنج لائن ٹرین منصوبے پر عام بحث کےلئے جمعرات کا وقت رکھا ہے اپوزیشن آئے اپنے تحفظات کا اظہار کرے میں انہیں ہر طرح سے مطمئن کروں گا ۔ پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ لاہور پنجاب کا صوبائی دارالحکومت ہے اور یہاں پورے صوبے سے لوگ آتے ہیں ۔ میٹرو پولٹین سٹی کےلئے میٹرو ٹرین منصوبہ نا گزیر ہے ۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور دوبارہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد صرف لاہور نہیںپورے پنجاب کی بہتری ہو گی اور یہ اپوزیشن کی منفی سیاست کو تباہ اورنیست و نابود کرنے کا منصوبہ ثابت ہوگا۔ اپوزیشن نے اورنج لائن ٹرین منصوبے پر عام بحث کےلئے جمعرات کا وقت طے کیا لیکن اب کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ ایوان میں ہوں گے تو بات کریں گے۔ اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں حکومت کوفیور ہے کہ اس کا موقف کوئی وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری بھی بیان کر سکتا ہے اور اپوزیشن کسی کو مجبور نہیں کر سکتی کہ فلاں اس کا جواب دے گا ۔ اصل میں اپوزیشن بھاگنا چاہتی ہے ، جمعرات کو آئیں او راپنی بات کریں لیکن پھر ہمارا جواب بھی سن کر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اورعمران خان جسے مک مکا کہتے ہیں ہم اس کو سیاسی انڈر سٹینڈنگ کہتے ہیں ۔ جمہوریت میں رواداری بہت اہم ہوتی ہے ، اپوزیشن اور حکومت میں انڈر سٹینڈنگ کے بعد معاملات اتفاق رائے سے آگے بڑھتے ہیں ۔ پی ٹی آئی کی سیاست میں مک مکا ہے ،کیا انہوں نے تنخواہوںکے معاملے میں ہم سے اتنا بڑا مک مکا نہیںکیا ۔ جب وزیر اعلیٰ کے حکم پر میں نے اپوزیشن سے بات کی تو انہوںنے فوری ہاں کہہ دی اور کہا کہ اس معاملے کو جلدی آگے بڑھایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں بحث ہو سکتی ہے لیکن سڑکوں پر نعروں اور احتجاج والا کام ایوان میں اچھا اقدام نہیں ۔ اپوزیشن کا کام صرف شور شرابہ اور غل غپاڑہ رہ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر پنجاب میں ایک سو دس فیصد عمل ہو رہا ہے ۔ مدارس کی رجسٹریشن او رجیو ٹیکنگ کی گئی ہے ۔ صوبائی حکومت کے ماتحت قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی طرح کا آپریشن کرنے کی استعداد رکھتے ہیں لیکن قانون کے مطابق صوبائی حکومت معاونت کےلئے فوج اور رینجر زکو بھی طلب کر سکتی ہے ۔ انہوں نے استنبول کے میئر کے استقبال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے مہمان ہیں اور حکومت نے ان کے شایان شان استقبال کیا اپوزیشن کا اس حوالے سے احتجاج بلا جواز ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…