ہفتہ‬‮ ، 17 اکتوبر‬‮ 2026 

بڑی ناکامی،سٹیٹ بینک نے پیش گوئی کردی

datetime 15  فروری‬‮  2016 |

کراچی (نیوز ڈیسک)ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ریاض ریاض الدین نے کہا کہ پاکستان رواں سال میں جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل نہیں کرپائے گاجس کی بڑی وجہ کپاس کی برآمد ات میں کمی ہے۔رواں سال پاکستان کا جی ڈی پی گروتھ ریٹ چار سے پانچ فیصد تک رہنے کا امکان ہے جو 5.5% کے ہدف سے کم ہے۔دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے اور یہ رجحان کئی سالوں تک جاری رہے گا ۔پاکستانی معیشت کو عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں کے باعث فائدہ پہنچاہے لیکن دوسری جانب اس سے پاکستان کی برآمدات میں کمی واقع ہوگی۔مشر ق وسطیٰ کے ممالک کی معیشتیں جو تیل کی برآمدات پر انحصار کرتی ہیں ان کی معیشت کو بھی عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں کے باعث نقصان پہنچے گا ۔ پاکستانی غیر ملکی ترسیلات زر کی بڑی تعداد ان ہی ممالک سے حاصل ہوتی ہے لہذا پاکستانی معیشت کو بھی خطرہ پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر کے زیر اہتمام ایک سیمینار بعنوان: 148پاکستان میں مالیاتی پالیسی کے چیلنجز147 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کی مالیاتی پالیسی کا بنیادی مقصد عوام کی سماجی اور اقتصادی فلاح وبہبود ہوتا ہے ۔پاکستان کی مالیاتی پالیسی اب ایک خودمختار ادارہStatutory Monetary Policy Committee تشکیل دیتا ہے جس میں مالیاتی ایکسپرٹس شامل ہوتے ہیں اور یہ ادارہ ہرقسم کے اثر ورسوخ سے آزاد ہے۔اس ادارے کا قیام موجودہ دور حکومت میں عمل میں لایا گیا ہے۔جی ڈی پی گروتھ ریٹ میں اضافے سے افراط زرمیں کمی واقع ہوتی ہے مگر کچھ مواقعوں پر گروتھ ریٹ میں کمی سے افراط زربھی کم ہوتاہے ۔یہ تاثر پوری طرح درست نہیں کہ پاکستان میں فوجی ادوار حکومت کی معیشتیں جمہوری ادوار حکومت کی معیشتوں سے بہتر تھی۔اس موقع پر رئیس کلیہ سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے کہا کہ فوجی ادوار حکومت میں بڑے پیمانے پر بیرون امداد کے باعث معیشتیں مستحکم رہی ہیں ۔پاکستان کی مالیاتی پالیسی کو استحکام بخشنے کے لئے اس کا پیشہ ورانہ تشکیل ،باقاعدگی سے جائزہ اور ہر قسم کی دخل اندازی سے پاک رکھنے کی ضرورت ہے۔یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اب ایک خودمختار اور ہر قسم کے اثر رسوخ سے مبراں ادارہ ہے۔پاکستانی معیشت کے استحکام کے لئے ضروری ہے کہ درآمدات اور برآمدات اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کے مابین فاصلوں کو کم کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



 عمران خان بھٹو


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…