جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

بڑی ناکامی،سٹیٹ بینک نے پیش گوئی کردی

datetime 15  فروری‬‮  2016 |

کراچی (نیوز ڈیسک)ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ریاض ریاض الدین نے کہا کہ پاکستان رواں سال میں جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل نہیں کرپائے گاجس کی بڑی وجہ کپاس کی برآمد ات میں کمی ہے۔رواں سال پاکستان کا جی ڈی پی گروتھ ریٹ چار سے پانچ فیصد تک رہنے کا امکان ہے جو 5.5% کے ہدف سے کم ہے۔دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے اور یہ رجحان کئی سالوں تک جاری رہے گا ۔پاکستانی معیشت کو عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں کے باعث فائدہ پہنچاہے لیکن دوسری جانب اس سے پاکستان کی برآمدات میں کمی واقع ہوگی۔مشر ق وسطیٰ کے ممالک کی معیشتیں جو تیل کی برآمدات پر انحصار کرتی ہیں ان کی معیشت کو بھی عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں کے باعث نقصان پہنچے گا ۔ پاکستانی غیر ملکی ترسیلات زر کی بڑی تعداد ان ہی ممالک سے حاصل ہوتی ہے لہذا پاکستانی معیشت کو بھی خطرہ پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر کے زیر اہتمام ایک سیمینار بعنوان: 148پاکستان میں مالیاتی پالیسی کے چیلنجز147 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کی مالیاتی پالیسی کا بنیادی مقصد عوام کی سماجی اور اقتصادی فلاح وبہبود ہوتا ہے ۔پاکستان کی مالیاتی پالیسی اب ایک خودمختار ادارہStatutory Monetary Policy Committee تشکیل دیتا ہے جس میں مالیاتی ایکسپرٹس شامل ہوتے ہیں اور یہ ادارہ ہرقسم کے اثر ورسوخ سے آزاد ہے۔اس ادارے کا قیام موجودہ دور حکومت میں عمل میں لایا گیا ہے۔جی ڈی پی گروتھ ریٹ میں اضافے سے افراط زرمیں کمی واقع ہوتی ہے مگر کچھ مواقعوں پر گروتھ ریٹ میں کمی سے افراط زربھی کم ہوتاہے ۔یہ تاثر پوری طرح درست نہیں کہ پاکستان میں فوجی ادوار حکومت کی معیشتیں جمہوری ادوار حکومت کی معیشتوں سے بہتر تھی۔اس موقع پر رئیس کلیہ سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے کہا کہ فوجی ادوار حکومت میں بڑے پیمانے پر بیرون امداد کے باعث معیشتیں مستحکم رہی ہیں ۔پاکستان کی مالیاتی پالیسی کو استحکام بخشنے کے لئے اس کا پیشہ ورانہ تشکیل ،باقاعدگی سے جائزہ اور ہر قسم کی دخل اندازی سے پاک رکھنے کی ضرورت ہے۔یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اب ایک خودمختار اور ہر قسم کے اثر رسوخ سے مبراں ادارہ ہے۔پاکستانی معیشت کے استحکام کے لئے ضروری ہے کہ درآمدات اور برآمدات اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کے مابین فاصلوں کو کم کیا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…