منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی طالبعلم کا قابل فخر کارنامہ ، تھری ڈی پرنٹرتیار کرلیا

datetime 29  جنوری‬‮  2015 |

کراچی…….پاکستانی نوجوان سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے میدان میںاپنی صلاحیتوں کالوہا منوانے کے بعداب ہارڈویئرکے میدان میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑرہے ہیںاورایساہی کراچی کے تئیس سالہ طالبعلم نے بھی اپنا شاہکار پیش کردیاہے ، فرخ بھابھا نے مقامی سطح پرتھری ڈی پرنٹر تیارکیاہے جس کی لاگت انٹرنیشنل مارکیٹ کے مقابلے میں چار گنا کم ہے۔
فرخ بھابھاکے مطابق تھری ڈی پرنٹرپلاسٹک کے میٹریل سے کوئی بھی آبجیکٹ منٹوںمیں تیار کرسکتا ہے، پرنٹرکو کنٹرول کرنے کے لیے سافٹ ویئربھی مقامی سطح پرتیار کیاجا رہاہے جسے موبائل فون کے ذریعے بھی مانیٹراور آپریٹ کیا جاسکے گا۔اُنہوں نے کہاکہ تھری ڈی اسکینرکی تیاری کے پروجیکٹ پربھی کام شروع کردیا ہے جو KINECTسینسرز پرمشتمل ہوگا،تھری ڈی پرنٹرکی مقامی سطح پر تیاری پاکستان میںتھری ڈی ٹیکنالوجی کودوام حاصل ہوگا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ انجینئرنگ کے شعبے میںانقلابی پیش رفت ہے جس سے پاکستان میں آٹوسیکٹر، میڈیکل اینڈسرجری، دندان سازی کے شعبے کے ساتھ مقامی مینوفیکچرنگ سیکٹرکو بھرپور فائدہ ہوگا۔ تھری ڈی پرنٹرکے ذریعے پلاسٹک کے ساتھ لچک دارپلاسٹک، ربراور لکڑی جیسے میٹیریل کی اشیابھی تیارکی جاسکیں گی۔ فرخ بھابھا SZABISTمیں بیچلرآف سائنس(کمپیوٹنگ) کے فائنل ٰایئرکے طالب علم ہیںجنہوںنے دنیامیں تھری ڈی پرنٹنگ کے شعبے میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کی ترقی کے امکانات کودیکھتے ہوئے پاکستان میںتھری ڈی پرنٹنگ پرکام کافیصلہ کیااور اپنے فائنل پروجیکٹ کے طورپر تھری ڈی پرنٹنگ کاانتخاب کیا۔ وہ اب تک 3تھری ڈی پرنٹرزتیار کرچکے ہیں، چوتھاپرنٹر زیرتکمیل ہے۔ فرخ بھابھاکا تیارکردہ پرنٹرایک فٹ اونچااور ایک فٹ چوڑاکوئی بھی آبجیکٹ تیارکر سکتاہے۔پاکستان میں تیارکردہ تھری ڈی پرنٹرایک لاکھ روپے میںایک سال کی وارنٹی، سافٹ ویئراور ٹریننگ کے ساتھ مہیاکیا جاسکتا ہے جبکہ درآمدی پرنٹرکی لاگت 3سے 4لاکھ روپے ہوگی۔
اب تک پاکستان میں تیارکردہ یہ سب سے زیادہ گنجائش کا پرنٹرہے۔ فرخ بھابھاکو دسمبر2014 میںغلام اسحٰق خان یونیورسٹی میںمنعقدہ ایک مقابلے میں 8پروجیکٹس میں سب سے اہم اورمنفرد قراردیا گیا۔ ان کی صلاحیتوں کودیکھتے ہوئے بین الاقوامی آئی ٹی کمپنی مائکروسافٹ نے انھیں مائکروسافٹ انوویشن سینٹرکراچی میںشامل کیاجہاں وہ مائکروسافٹ کی سپورٹ سے سافٹ ویئرکی تیاری میںبھی مصروف ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…